-Dr Karlis Oais, American
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۸
جلد دونوں اکٹھا ہو جائیں گی۔ اپنی ماں سے اس گفتگو کے بعد وہ بہت پر سکون ہو گئی اور تھوڑی دیر کے بعد مرگئی۔
یہ اور اسی طرح کے دوسرے بہت سے واقعات ہیں جن کی چھان بین کے بعد علماء کی ایک جماعت نے دوسری زندگی کو بطور واقعہ تسلیم کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ موت کے بعد ایک اور زندگی کا وجود ہے۔ ہم اس حقیقت کو سائنسی تجربات کے ذریعہ جان سکتے ہیں۔ “ مغربی دنیا میں علم الموت (Thanatology) اب ایک مستقل فن بن گیا ہے جس پر سائنسی انداز سے تحقیق ہو رہی ہے۔ اس علم کے گرد اور بھی کئی علوم وجود میں آئے ہیں مثلاً عمر کی سائنس (Gerantalogy) مستقبل کی سائنس (Futuralogy) وغیرہ۔
-Dr Karlis Oais, American
Society of Psychical Research, New York; -Dr Elisabeth Kubler-Ross, (USA); -Dr Raymond A.Moody Jr.: Life After Life (USA, 1976); -"Life After Death", Newsweek, July 12, 1976; -Time, January 7, 1974. امریکی میگزین ٹائم (ے جنوری ۱۹۷۴) نے لکھا تھا: موت زندگی کا خاتمہ نہیں وہ اگلی زندگی میں داخلہ کا دروازہ ہے “زیادہ دن نہیں گزرے، موت کے بارے میں بحث زیادہ تر ان مخصوص کتابوں کا موضوع ہوتی تھی جو یورپ میں تیار ہوتی تھیں اور وہاں سے امریکہ در آمد کی جاتی تھیں۔ اچانک طور پر موت امریکہ کا بہت زیادہ مقبول موضوع بن گیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ علمی اختصاص کا ایک موضوع ہے۔ منی سوٹا یونیورسٹی کو فخر ہے کہ اس نے موت کے مطالعہ کا ایک مرکز قائم کیا ہے۔ یو۔ سی۔ ایل۔ اے نے اپنے یہاں ایک لیبوریٹری قائم کی ہے جس کا مقصد زندگی کو نقصان پہنچانے والے حالات کا مطالعہ کرنا ہے۔ تقریری اجتماعات میں اب موت کا موضوع جنس اور سیاست جیسے سدا بہار موضوعات سے تجاوز کرنے لگا ہے ۔ اٹلانٹک کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ کتابوں کی ایک نئی قسم وجود میں آئی ہے جس کو علم الموت کی کتابیں کہا جاتا ہے۔ “ دلی میں یا اس کے قریب ہمیں ایک ایسی جگہ کی ضرورت ہے جہاں اسلامی مرکز، الرسالہ اور رسالہ بک ڈپو کے دفاتر قائم کئے جا سکیں۔ اس سلسلہ میں جو لوگ کسی قسم کا تعاون کر سکتے ہوں، براہ کرم ہمیں مطلع فرمائیں ــــــــ الرسالہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues