اسپین میں کیا ہوا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۹
بقیہ علاقں کی فتوحات کا دروازہ کھل جائے گا۔ مگر ۹۶ھ میں سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا۔ اس کو حجاج کے متعلقین سے حجاج کا بدلہ لینا تھا۔ اس نے ایک طرف حجاج کے بعد یزید بن مہلب کو عراق کا والی مقرر کیا اور ایک خارجی المذہب صالح بن عبدالرحمن کو خراج وصول کرنے کی خدمت سپرد کی۔ یہ دونوں حجاج کے بدترین دشمن تھے۔ چنانچہ سلیمان کے حکم کے مطابق ان دونوں نے نسل عقیل (خاندان حجاج) کے لوگوں کو طرح طرح سے ماخوذ کر کے قتل کرنا شروع کیا۔
دوسری طرف سلیمان نے محمد بن قاسم کو ولایت سندھ سے معزول کرنے کا حکم جاری کر دیا جس کا قصور اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ حجاج کا ابن عم اور داماد تھا اور حجاج کا نامور عزیز ہونے کی بنا پر اس کو ہلاک کر کے سلیمان اپنے انتقامی جوش کو ٹھنڈا کر سکتا تھا۔ سلیمان نے محمد بن قاسم کی جگہ یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا حاکم مقرر کیا۔ نیا حاکم دربار خلافت کا حکم لے کر سندھ پہنچا۔ اس نے محمد بن قاسم کو گرفتار کیا اور مجرموں کی طرح اس کو ٹاٹ کے کپڑے پہنائے، ہاتھ پاؤں میں زنجیریں ڈالیں اور معاویہ بن مہلب کی حراست میں عراق روانہ کیا۔ یہ بھی محمد بن قاسم کی سعادت مندی تھی۔ ورنہ سندھ میں وہ اتنا مقبول تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم سے بغاوت کر کے خود یزید اور مہلب کو گرفتار کر سکتا تھا۔
فتوح البلدان کے بیان کے مطابق عربی کا مشہور و شعراسی وقت محمد بن قاسم کی زبان پر جاری ہوا تھا: اضاعونی وای فتی اضاعوا ليوم كريهة وسداد ثغر لوگوں نے مجھے ضائع کر دیا اور کیسے جوان کو ضائع کیا۔ وہ جو مصیبت کے دن کام آئے اور سرحدوں کو محفوظ رکھے) اس کے بعد محمد بن قاسم کو دمشق لے جایا گیا۔ وہاں سلیمان کے حکم سے وہ واسط کے جیل خانہ میں قید کر دیا گیا۔ اس پر داروغہ جیل کی حیثیت سے صالح بن عبدالرحمن مسلط تھا جس نے اس کو جیل میں طرح طرح کی تکلیفیں دے کر مار ڈالا ایک مورخ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
"اگر ولید بن عبدالملک کی زندگی کچھ روز اور وفا کرتی۔ یا سلیمان ہی عقل و ہوش سے کام لے کر محمد بن قاسم کو چھوڑ دیتا تو شاید ایشیا کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ "
یہی مورخ مزید لکھتا ہے "محمد بن قاسم کے زمانہ میں خلقت خدا کثرت سے اسلام قبول کرتی جارہی تھی۔ تبلیغ دین کی جو سچی اور صحیح کوشش اس نے چند روز میں کر کے دکھادی۔ بعد کی بڑی بڑی سلطنتیں صدیوں میں بھی نہ کر سکیں۔ اس نو عمر سپہ سالار نے چند روز کی حکمرانی میں جو گہرا اثر ڈال دیا تھا۔ ویسا اثر پٹھانوں اور مغلوں کی سلطنتیں پانچ سو برس میں بھی ملک پر نہیں ڈال سکیں۔ سندھ کے علاوہ بقیہ ملک میں آج مسلمان تھوڑے ہیں اور ملک پر کوئی اثر نہیں رکھتے۔ بخلاف اس کے سندھ میں سب سے بڑا غلبہ مسلمانوں کو حاصل ہے اور یہ صرف عربوں اور خاصہ محمد بن قاسم کی دین ہے۔ "
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues