اسپین میں کیا ہوا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۸
سلیمان اب حجاج بن یوسف کو نہیں پا سکتا تھا۔ تاہم حجاج کے رشتے دار اس کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے موجود تھے جن میں سرفہرست حجاج کے ابن عم اور داماد محمد بن قاسم کا نام تھا جس نے سندھ (موجودہ پاکستان) میں غیر معمولی فاتحانہ کارنامے دکھا کر حجاج کی شہرت میں اضافہ کیا تھا۔ محمد بن قاسم نہایت اعلیٰ درجہ کی قابلیت رکھنے والا سپہ سالار تھا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں، اس نے سندھ و ہند کی فتوحات میں ایک طرف اپنے آپ کو رستم واسکندر سے زیادہ بڑا بہادر ثابت کیا تو دوسری طرف نوشیروان عادل سے بڑھ کر عادل ورعا یا پرور ظاہر ہوا۔ یہ نوجوان فتح مند سردار سندھ و پنجاب میں اتنی تیزی سے گھس رہا تھا اور بستیوں کی بستیاں اس کے اثر سے اس طرح دائرہ اسلام میں داخل ہوتی چلی جارہی تھیں کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عنقریب سارا علاقہ ایک اسلامی علاقہ بن جائے گا۔ ہندوستان کی مہم پر محمد بن قاسم کو حجاج ہی نے روانہ کیا تھا اس کے لیے حجاج نے کتنا اہتمام کیا تھا اس کا اندازہ چند مثالوں سے ہوگا۔
۱- حجاج نے دیگر تمام ساز وسامان کے علاوہ ۳۰ ہزار دینار خصوصی طور پر محمد بن قاسم کے ہمراہ کیے تاکہ ناگہانی ضرورت کے وقت کام آسکیں (عربی معصم) کہا جاتا ہے کہ فوج کشی کی اس مہم پر کل ۶ کروڑ درہم صرف ہوئے تھے۔
۲- فراہمی سامان کا حجاج کو اس قدر خیال تھا کہ اس نے سوچا کہ محمد بن قاسم کو عربوں کی عادت کی بنا پر پہ کھانے میں سرکہ کی ضرورت ہوگی۔ چنانچہ اس نے بہت سی روئی سرکہ میں تر کر کے خشک کرایا اور اس کو محمد بن قاسم کے پاس روانہ کیا اور لکھا کہ جب سرکہ کھانے کا جی چاہے تو اس کو پانی میں بھگو کر نچوڑ لیا کرنا ۳۔ پانچ یہ منجنیقیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے خشکی کے راستے سے روانہ نہ ہو سکتی تھیں، ایک بڑے جہاز پر لاد کر ساحل سندھ کی طرف روانہ کیں۔ منجنیقیں اتنی بڑی تھیں کہ ان میں سے ہر ایک کو چلانے کے پانچ سو آدمیوں کی ضرورت ہوتی تھی ۴۔ اس پوری مہم کے دوران حجاج اور محمد بن قاسم کے درمیان ڈاک کا سلسلہ جاری رہا۔ حجاج بصرہ میں تھا اور محمد بن قاسم سندھ میں۔ مگر انتظام یہ تھا کہ ہر تیسرے روز ایک خط حجاج لکھتا تھا اور اسی طرح محمد بن قاسم بھی ساری مصروفیات کے باوجود ہر تیسرے روز حجاج کے نام مفصل حالات تحریر کرتا۔ ڈاک کی روانگی کے لیے ایسے خاص انتظامات کیے گئے تھے کہ اگر چہ دیبل (سندھ) اور بصرہ میں ہزاروں کوس کا فاصلہ تھا مگر برابر ساتویں روز بصرہ سے دیبل اور دیبل سے بصرہ دونوں کے خطوط پہنچ جاتے تھے۔
محمد بن قاسم نے ۹۳ھ میں ملتان فتح کیا۔ اب پورا سندھ اس کے قبضہ میں تھا۔ بحر عرب سے لے کر حدود کشمیر تک تمام راجاؤں اور سرداروں نے اسلام کی عظمت کو تسلیم کر لیا تھا۔ اب اس نے پورے برصغیر میں اسلام کی اشاعت کا منصوبہ بنایا اور قنوج کی طرف کوچ کرنا شروع کیا۔ اس کا خیال تھا کہ قنوج پر قبضہ کرنے کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues