Al-Risala · September 1977 · page 3

اداریہ

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳

اداریہ

دور جدید کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں نے جو نقصان اٹھایا ہے، ان میں سے ایک نقصان اردو زبان کا بھی تک بے ٹائپ ہونا ہے، دنیا کی تمام قابل ذکر زبانوں کے ٹائپ بن چکے ہیں۔ حتیٰ کہ خود ایران، جس سے ہم نے ”فارسی رسم الخط“ کو لیا ہے، اس نے بھی اپنے خط کو ٹائپ کی صورت میں ڈھال لیا۔ مگر برصغیر ہند کے مسلمان اپنی آفاقی فتوحات میں اتنے مشغول رہے کہ ان کو زمین پر کوئی تعمیری کام کرنے کی فرصت ہی نہ ملی۔ ٹائپ صنعتی دور کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ٹائپ کا مطلب ایک آرٹسٹ کے عمل کو کروڑوں سے ضرب دینا ہے۔ مگر مسلمان دستکاری دور سے اوپر اٹھ کر سوچ نہ سکے ۔ قدیم ترین زمانہ سے کتابت ایک شخصی فن کی حیثیت سے معروف چلا آرہا تھا۔ کتابت یا خوش نویسی کا مطلب یہ تھا کہ ایک آدمی برسہا برس کی محنت سے لکھنے کی مہارت حاصل کرے اور اس مہارت کو اپنی انگلیوں کے ذریعہ کاغذ پر منتقل کرے ۔ مگر صنعتی علم نے بتایا کہ فن کار کے دستی عمل کو دھات کے ٹائپ کی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک فن کار کے کروڑوں نقش تیار ہو جائیں گے اور جو قلم ایک وقت میں صرف ایک حرف لکھ سکتا تھا، وہ مشینی ضرب پا کر کروڑوں حروف بنا ڈالے گا۔ مگر مسلمان، دوسرے ملی امور کی طرح فن کتابت میں بھی، بدستور ”دستکاری“ ذہن سے سوچتے رہے اس سے باہر آ کر جدید حقائق کا اندازہ نہ کر سکے، وہ جدید زمانہ میں قدیم دور کے کمالات دکھاتے رہے جس وقت ہم اپنے خوش نویسوں کو ”آفتاب رقم“ اور "اعجاز خطاطی" کے خطابات دے رہے تھے، ٹھیک اسی وقت بقیہ دنیا اپنے خوش نویسوں سے حروف کے نمونے لکھوا کر ان کو ٹائپ کی صورت میں ڈھال رہی تھی ۔ اس طرح انھوں نے نہ صرف خوش نویسی کے عمل کو دائمی طور پر محفوظ کر لیا بلکہ اپنے کو اس قابل بنالیا کہ ایک خوش نویس کا قلم بیک وقت بے شمار کتابوں کی "کتابت " انجام دے سکے ۔ ہم خوش نویسوں کی وصلیوں کی نمائش میں لگے رہے، جب کہ دوسری قوموں نے اپنے خوش نویسوں کے فن کو مستقل حیثیت سے محفوظ کر لیا ۔

ہماری تمنا ہے کہ اگر حالات موافقت کریں تو ہم اردو زبان میں عربی ٹائپ کا رواج شروع کر دیں جس طرح ایران نے عربی ٹائپ کو اپنے لئے اختیار کر لیا ہے۔ اس کے لئے اپنا مکمل پریس قائم کرنا ضروری ہوگا۔ کیونکہ بازار میں ایسے عربی پریس موجود نہیں ہیں جن سے کام کرایا جاسکے ۔ خدا جلد وہ دن لائے جب کہ رسالہ ٹائپ میں چھپنا شروع ہو جائے اور اسی کے ساتھ اس کا عربی ایڈیشن بھی۔

عربی ٹائپ کو اردو میں اختیار کرنے کی بات ہوئی ہے تو اکثر یوں فوراً یہ کہہ دیتے ہیں کہ ٹائپ کے ذریعہ چھپائی مہنگی پڑے گی۔ موجودہ حالت میں یہ بات صحیح ہے ۔ مگر اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس وقت اردو میں ٹائپ کی عمومی سہولتیں حاصل نہیں ہیں ۔ اگر کثرت سے اردو کے ٹائپ پریس قائم ہو جائیں تو ٹائپ کی چھپائی یقینی طور پر سستی اور آسان ہو جائے گی ۔

رواج عام کے بعد وہی چیز بالکل معمولی بن جاتی ہے جو ابتدا میں نہایت مشکل دکھائی دیتی تھی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page