Al-Risala · September 1977 · page 7

مینیجر

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۷

پیغمبر اسلام نے جب حق کو بے آمیز شکل میں پیش کیا تو آپ کے معاصرین کو محسوس ہوا کہ آپ ان کے بزرگوں کی تحقیر کر رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ قبیلہ قریش کا ایک معمولی آدمی ایسی سچائی کا جاننے والا ہو سکتا ہے جو ان شخصیتوں کو حاصل نہیں ہوئی جن کو اپنے روایتی اعتقاد کے مطابق وہ اونچا مذہبی مقام دیے ہوئے تھے۔

عمرو بن مرہ الجہنی رضی اللہ عنہ نے مدنی دور میں اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ اپنے قبیلہ جہینہ میں واپس آئے اور ان کو اسلام کی طرف دعوت دی۔ ابن عساکر کی روایت کے مطابق اس کے بعد قبیلہ کا ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا:

یا عمروبن مرق ! امر اللہ عیشلث ، انا مرنا برفض الهتنا وان تفرق جمعنا وان تخالف دین آبائنا الشيم العلیٰ ۔ الى مايدعونا اليه هذا القرشى من اهل تهامة ؟ لاحباولا كرامة ، ثم انشأ : ان ابن مرة قد اتى بمقالة لیست مقالة من يريد صلاحا انی لاحسب قوله و فعاله يوما وان طال الزمان ذ باجا ليسفه الاشياخ ممن قد مضى من رام ذلك لا اصاب فلاحا اے عمرو بن مرہ ! خدا تیری زندگی تلخ کر دے، کیا تو ہم کو ہمارے معبودوں کو چھوڑنے کا حکم دے رہا ہے ۔ اور یہ کہ ہم اپنی جمعیت کو منتشر کر دیں اور اپنے باپ دادا کے دین کی مخالفت کریں جو اعلیٰ اخلاق پر تھے۔ یہ تہامہ کا رہنے والا قریشی ہمیں کس چیز کی طرف بلاتا ہے ، اس میں نہ کوئی شرافت ہے نہ کراہت ـــــــ پھر اس نے یہ اشعار پڑھے:۔

عمرو بن مرہ ایک ایسی بات لے کر آیا ہے جو صلاح پسند لوگوں جیسی بات نہیں۔ میرا یقین ہے کہ اس کا قول و فعل ایک دن مہلک ثابت ہوگا خواہ اس میں کچھ دیر لگ جائے۔ وہ ہمارے گزرے ہوئے اسلاف کو احمق ثابت کرنا چاہتا ہے اور جس کا ایسا ارادہ ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ Scanned with CamScanner CS CamScanner

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page