مینیجر
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۹
نقل کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے :
THIS STERN INJUNCTION WAS ENUNCIA- TED BY THE PROPHET MOHAMMAD SOME 1,300 YEARS AGO TO HIS FOLLOWERS IN A PRIMITIVE DESERT SOCIETY. NOW AFTER CENTURIES OF BEING SUPERCE- DED BY WESTERN LAW THE EXACTING CODE OF THE KOPAN IS ONCE MORE GAI- NING STRENGTH AND SUPPORT IN A NUM- BER OF COUNTRIES. Time, July 25, 1977 یہ سخت حکم پیغمبر اسلام نے ۱۳ سو سال پہلے اپنے پیرووں کے سامنے ایک ابتدائی صحرائی سماج میں پیش کیا تھا۔ اب، صدیوں تک مغربی قانون سے دبے رہنے کے بعد، قرآن کا قانون دوبارہ مختلف اسلامی ملکوں میں زور پکڑ رہا ہے۔
اسی طرح رائٹر نے ایک خبر نشر کرتے ہوئے کہا ہے : A TREND IS GROWING IN THE ISLAMIC WORLD TOWARDS TIGHTENING MORALITY AND DISCOURAGING CRIME BY THE RE- INFORCEMENT OF THE SHARIAT FORMU- LATED 1,400 YEARS AGO. Times of India, August 15, 1977 اسلامی ملکوں میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ ۱۴ سو سالہ شریعت کے قانون کو نافذ کرکے جرائم کا خاتمہ کیا جائے اور اخلاقی فضا پیدا کی جائے۔
کہ اسلام کی بنیاد پر ایک نیا قانون مرتب کرے۔ اس کے مطابق، دوسرے جرائم کے ساتھ، ارتداد کی سزا قتل ہوگی۔ الاہرام نے خبر دی ہے کہ عنقریب مصر میں قطلع ید کی سزا نافذ ہو جائے گی۔ پاکستان کی فوجی حکومت نے بھی اپنے ملک میں متعدد شرعی قوانین نافذ کئے ہیں جس میں ہاتھ کاٹنا اور سر عام کوڑے مارنا کی سزا بھی شامل ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے کہا ہے کہ ہاتھ کاٹنے کے لئے سن کرنے والی دوائیں استعمال ہوں گی۔ ٹائم لکھتا ہے: THE THREAT WAS APPARENTLY SUFFI- CIENT TO CAUSE A SHARP DROP IN CRIME اس قسم کی سزاوں کا اندیشہ بظاہر جرائم میں زبردست کمی کرنے کے لئے بالکل کافی ہے۔
پاکستان کی طرح کویت اور عرب امارات متحدہ میں بھی قانون اسلامی کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ کویت نے سور کے گوشت کی تجارت بالکل بند کر دی ہے۔ یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ کویت یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کا سلسلہ ختم کر دیا جائے۔ سعودی عرب میں نماز کے وقت دکان دار اپنی دکانیں کھلی چھوڑ کر مسجد میں نماز ادا کرنے عرب ریاستوں یا پانچ عرب ریاستوں، سعودی عرب، کے لیے چلے جاتے ہیں، مگر کوئی شخص دکان کی کوئی چیز قطر، عمان، لیبیا، شمالی یمین کے قانون کی بنیاد قرآن پر ہے۔ مصر، جہاں مغربی تہذیب کا غلبہ ہے، وہاں بھی ایک پارلیمینٹری کمیشن اس مقصد کے لئے مقرر کیا گیا ہے اُٹھانے کی ہمت نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کی قیمت بہت مہنگی ہے ۔ اپنے ہاتھ سے ہمیشہ کے لئے محرومی ۔ سعودی عرب میں جرائم کی شرح سب سے کم ہے ۔ کتے کی کتا جب کسی کو تنہا دیکھتا ہے تو بھونکتا ہے اور جب دیکھتا ہے خصلت کہ اس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے تو دم دبا کر بھاگ جاتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues