Winston S. Churchill,
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۳
خدا ــــ از لائی قطرے کی آہ سے خدا — انسانی فطرت ہی اور ہے فرانس کی ایک فلم ایکٹرس گائنا لو لو بر ایگیٹیڈا (GINA LOLLOBRIGIDA) جنوری ۱۹۷۵ میں ہندوستان آئی تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں ایک اخباری رپورٹر سے اس کا سوال و جواب یہ تھا:
TO A QUESTION WHETHER SHE BELIEVED IN GOD, GINA SAID:
I BELIEVE IN GOD. I BELIEVE IN GOD, MORE WHEN I AM ON AN AEROPLANE. Times of India, 3.1.1975 ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ خدا کو مانتی ہے، گائنا نے کہا: میں خدا کو مانتی ہوں، میں خدا کو مانتی ہوں، اس وقت اور بھی زیادہ جب میں ہوائی جہاز میں ہوتی ہوں۔ آدمی جب ہوائی جہاز میں اڑ رہا ہو تو اس وقت وہ مکمل طور پر ایسے خارجی اسباب کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جن کے توازن میں معمولی فرق بھی اس کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے۔ انسان کی یہی بے چارگی سمندری سفروں میں بھی ہوتی ہے، قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے، تاکہ وہ تمہیں اپنی قدرتیں دکھائے۔ درحقیقت اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو صابر اور شکر کرنے والا ہو۔ اور جب سمندر میں ان لوگوں کو موجیں بادلیوں کی طرح گھیر لیتی ہیں تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں، اپنے دین کو اسی کے لئے خالص کر کے۔ پھر جب وہ بچا کر انہیں خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے کوئی اعتدال پر رہتا ہے۔ اور ہماری نشانیوں کا انکار وہی کرتا ہے جو بد عہد اور ناشکرا ہے۔ (لقمان ۳۱-۳۲)
کوئی شخص خواہ کتنا ہی سرکش اور سنگدل نہ ہو، جب مشکل حالات پڑتے ہیں تو وہ بے اختیار خدا کو پکار اٹھتا ہے۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا انسانی فطرت کی آواز ہے۔
۲۔ روسی ڈکٹیٹر مارشل اسٹالن (۱۸۷۹-۱۹۵۳) خدا کا منکر تھا۔ مگر اس کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ مشکل اوقات میں وہ بے اختیار خدا کو یاد کرنے لگتا تھا۔ ونسٹن چرچل (۱۸۷۴-۱۹۶۵) نے دوسری جنگ عظیم کے موقع پر اگست ۱۹۴۲ء میں ماسکو کا سفر کیا تاکہ ہٹلر کے خلاف دوسرا محاذ (سکنڈ فرنٹ) قائم کرنے کے لیے روسی لیڈروں سے گفتگو کرے۔ چرچل نے اس سلسلہ میں اتحادیوں کا فوجی منصوبہ اسٹالن کے سامنے رکھا جس کا خفیہ نام "ٹارچ" (TORCH) رکھا گیا تھا۔ اسٹالن چونکہ خود بھی ہٹلر کی بڑھتی ہوئی یلغار سے خائف تھا، اس نے اس فوجی منصوبہ میں گہری دلچسپی لی۔ چرچل کا بیان ہے کہ منصوبہ کی تشریح کے ایک خاص مرحلہ پر جب کہ اسٹالن کی دلچسپیاں اس سے بہت بڑھ چکی تھیں اس کی زبان سے نکلا:
MAY GOD PROSPER THIS UNDERTAKING خدا اس منصوبہ کو کامیاب کرے۔
Winston S. Churchill,
The Second World War (Abridgement), Cassell & Company London, 1965, P. 603 ۳۔ سابق صدر امریکہ مسٹر رچرڈ نکسن کے افراد خاندان جب آخری فوٹو گراف کے لئے وائٹ ہاؤس میں جمع ہوئے تو سرکاری فوٹو گرافر کو ان کا فوٹو لینے میں کافی دیر لگی کیونکہ نکسن سمیت سب لوگ رو رہے تھے۔ کوئی جس کا واہ تمہاری طرح اور تحریروں میں نہ ہو کافی دیر ہی۔ کیونکہ صدر حسن سمیت سب وہاں موجود ہے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues