روپے تک فروخت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۱
بہتر طور سے پرورش پاتے ہیں جہاں کم سردی پڑتی ہے۔ حکومت کا پہلا مرکزی گھڑیال فارم اُڑیسہ میں بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مدراس اسنیک پارک ٹرسٹ نے ایک ’’کروکوڈائل بنک‘‘ مہا بلی پورم (تامل ناڈو) میں بنایا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا گھڑیال فارم سموتا کان (SAMUTAKAN) تھائی لینڈ میں ہے۔ یہاں کے ذخیرہ آب میں ۶ ہزار گھڑیال ہیں، حکومت تھائی لینڈ ان کے تیار شدہ چمڑوں کو فروخت کرتی ہے اور یہ اس کے لئے زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک مستقل ذریعہ ہے اندازہ کیا گیا ہے کہ فطری حالات میں گھڑیال کے صرف ایک فی صد انڈوں سے بچہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ ان کے انڈوں اور بچوں کو مختلف قسم کے جانور مچھلیاں اور چڑیاں کھا جاتی ہیں۔ گھڑیال کے انڈے انسانوں کی خوراک بھی بنتے ہیں۔ انڈمان کے بازار میں ان انڈوں کی بہت مانگ ہے۔
گھڑیال کے فارم میں انڈوں کا تحفظ ممکن ہو جاتا ہے اور اس طرح گھڑیال کی نسل کو بہت بڑھایا جا سکتا ہے۔ گھڑیال کے چمڑوں کو تیار کرنے کے لئے اسمال اسکیل انڈسٹری قائم کی جا سکتی ہے۔ اس قسم کے فارم ہر اس ریاست میں قائم کئے جا سکتے ہیں جہاں پانی کے بڑے ذخیرے، جھیلیں اور تالاب ہوں۔ یہ مقامات سیاحوں کی دل چسپی کا مرکز بھی بن سکتے ہیں۔ کرناٹک اور راجستھان کے بعض ذخائرِ آب میں گھڑیالوں کی موجودگی نے ان مقامات کو سیاحوں کے لئے پرکشش بنا دیا ہے۔ یہی کام اگر سائن ٹفک طریقوں سے کیا جائے تو یہ فائدہ زیادہ بڑے پیمانہ پر حاصل کیا جا سکے گا || سرگہ:
جب خدا کے دین کو دنیا دارانہ زندگی میں ڈھال لیا جائے اسلام کا مطلب یہ ہے کہ زندگی خدا اور آخرت کی یاد میں ڈھل جائے یہاں بندہ اپنے رب سے روحانی سطح پر ملاقات کرتا ہے۔ مگر جب اسلام کے ماننے والوں کو زوال ہوتا ہے تو اسلام کی روح غائب ہو جاتی ہے اور صرف اس کے دنیوی پہلو باقی رہ جاتے ہیں، اسلام اپنی سطح سے اتر کر ماننے والوں کی سطح پر آ جاتا ہے ___ نظر نہ آنے والے خدا سے خوف و محبت کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے، البتہ نظر آنے والے خداؤں (احبار و رہبان) کی تقدیس و تحمید زوروں پر شروع ہو جاتی ہے۔ خدا کے لئے تنہائیوں میں رونا اور خاموشیوں میں اس سے گڑگڑانا باقی نہیں رہتا، البتہ لاؤڈ اسپیکر کے اوپر قرآن وا سلام کے ہنگامے خوب ترقی کرتے ہیں۔ نماز لوگوں کے دلوں کو روشن نہیں کرتی، البتہ مسجدوں کی روشنیاں پورے شباب پر پہنچ جاتی ہیں۔ روزہ سے صبر اور پر ہیز گاری نکل جاتی ہے البتہ افطار و سحر کی دھوم خوب بڑھ جاتی ہے۔ عید میں شکر اور سجدہ کی روح نہیں ہوتی، البتہ کپڑے اور میلے کے تماشے خوب رونق پکڑتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ خدا کے دین کو اپنی دنیا دارانہ زندگی میں ڈھال لیا جاتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues