Al-Risala · January 1977 · page 52

روپے تک فروخت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۲

عربوں کی قبل از اسلام تاریخ کو جاننے کا زیادہ قابل اعتماد ذریعہ قرآن ہے نہ کہ قدیم جاہلی ادب والوں کا یہ گمان باطل غلط ثابت کرتی ہے کہ عرب قوم دنیا سے بے تعلق قوم تھی۔ آپ نے دیکھا کہ قرآن کس طرح ان لوگوں کی روم و ایران کی سیاست میں دلچسپی لینے کا تذکرہ کرتا ہے ۔

سورہ قریش میں بیرونی دنیا سے عربوں کے اقتصادی تعلقات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ دونوں سفر ڈاکٹر طہ حسین مصری (۱۹۷۳- ۱۸۸۹) نے عربوں کے جاہلی ادب پر ایک کتاب لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قدیم عربوں کی زندگی کو جاننے کا زیادہ بہتر ذریعہ قرآن ہے نہ کہ جاہلی ادب، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ان کے خیالات کا خلاصہ نقل کیا جاتا ہے۔ میں عرب جاہلیت پر تحقیق کرنے بیٹھوں گا تو امرؤ القیس، نابغہ، اعشی، زہیر، قس بن ساعدہ و اکثم بن صیفی کے اشعار کی راہ ہرگز اختیار نہ کروں گا۔ میں جاہلی زندگی کو قرآن میں تلاش کروں گا۔ کیوں کہ اس سے زیادہ سچا نقشہ زمانہ جاہلیت کا اور کوئی نہیں پیش کر سکتا۔ ہمارے پاس جاہلیت کے اشعار کا جو ذخیرہ موجود ہے، اس سے عربوں کی ایک ایسی زندگی کی تصویر ملتی ہے جو خاموش، بے بنیاد، کھوکھلی، مذہبی احساس سے یکسر خالی ہے۔ اگر ایسا نہیں تو امرؤ القیس، طرفہ اور عنترہ کی شاعری میں یہ جذبہ کیوں نظر نہیں آتا۔ قرآن بالکل دوسرا نقشہ پیش کرتا ہے۔ کیا قرآن نے روم اور ایران کے درمیان لڑائی کا ذکر نہیں کیا ہے، جس نے عرب قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ایک روم کی خیر خواہی کا دم بھرتا تھا۔ دوسرا ایران کی طرف داری کرتا تھا۔ یہ چیز موجودہ جاہلی ادب کے ماننے بیرونی دنیا کی طرف ہی ہوتے تھے۔ ایک شام کی طرف، دو سرایمن، ایران اور حبشہ کی طرف۔ رسول عربی کی سیرت بھی ہمیں بتاتی ہے کہ عرب قوم نے آبنائے باب المندب سے ہو کر ملک حبش کی طرف ہجرت کی تھی یہی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ یہ قوم حیرہ ہوتی ہوئی بلاد ایران تک ایک طرف اور شام و فلسطین ہوتی ہوئی مصر تک دوسری طرف پہنچ گئی تھی۔

امرؤالقیس کا کلام پڑھیے یا کسی اور شاعر کا، آپ جاہلی ادب کا سارا انبار الٹ ڈالئے، عربوں کی اقتصادی زندگی پر ایک لفظ ایسا نہیں ملے گا جو ان کے اقتصادی تعلقات کے بارے میں رہ نمائی کر سکے۔ قرآن نے عربی قوم کو دو طبقوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک سرمایہ داروں کا طبقہ جو دولت پر نثار ا ور سود خواری میں منہمک ہے۔ دوسرا تہی دستوں کا۔ قرآن صاف لفظوں میں دوسرے طبقہ کی پشت پناہی کرتا ہے اور سود خوار طبقہ سے کہتا ہے کہ خدا اور رسول سے جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ یہ بات صراحتہً اس فساد کا پتہ دیتی ہے جو عربوں کی اقتصادی زندگی میں موجود تھا۔ جاہلی ادب کی نظم و نثر میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں غریبوں اور امیروں کے درمیان طبقاتی مکش کش کی کوئی جھلک نظر آتی ہو۔ وہ ادب کیسا ادب ہوگا جوان تکلیفوں کی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page