Al-Risala · September 1977 · page 16

زبور : ۲۷

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶

ناموافق حالات زندہ قوموں کیلئے ترقی کا زینہ بن جاتے ہیں آرنلڈ ٹائن بی (۱۹۸۹-۱۸۸۹) چند خوش قسمت مصنفین میں سے ہے جس نے اپنی زندگی ہی میں عالمی مقام حاصل کر لیا۔ اس انگریز مورخ کو سب سے زیادہ شہرت اپنی ۱۲ جلدوں پر مشتمل "اسٹڈی آف ہسٹری" کی وجہ سے ملی جس میں اس نے ۲۱ تہذیبوں کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ وہ قوتیں جو تاریخ بناتی ہیں، وہ بنیادی طور پر داخلی قوتیں ہیں نہ کہ خارجی اسباب۔ اس نے قدیم زمانہ سے لے کر اب تک تمام بڑی تہذیبوں کا مطالعہ کر کے دکھایا ہے کہ ان تہذیبوں کو جن قوموں نے پیدا کیا، وہ تخلیقی صلاحیت رکھنے والی اقلیتیں تھیں جنھوں نے وقت کے چیلنج کا کامیابی کے ساتھ جواب دیا۔ اقلیتوں کے ساتھ ہمیشہ یہ ہوا ہے کہ وہ اکثریت کی طرف سے مسلسل دباؤ میں رہتی ہیں۔ یہ دباؤ عملی زندگی میں بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی وجہ سے کسی قوم کی وہ اندرونی تخلیقی صلاحیت ابھرتی ہے جو اُس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ پیش آنے والے چیلنج کے مقابلہ میں قائدانہ رول ادا کر سکے۔ اس کے برعکس جن قوموں کی لغت میں "دباؤ" کے معنی صرف "مظلومیت" کے ہوتے ہیں، ان کے حصہ میں فریاد و احتجاج کے سوا کچھ نہیں آتا۔ وہ اپنی محرومیوں کا رجسٹر بنانے میں مشغول رہتی ہیں یا جلسوں اور تقرییوں کا کمال دکھا کر سمجھتی ہیں کہ انھوں نے اپنی سربلندی کا راز پا لیا ہے ۔ یہاں تک کہ جب وقت کا قافلہ آگے بڑھ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لئے اس دنیا میں قبرستان کے سوا اور کچھ نہیں۔

CS CamScanner

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page