قرآن کا مطلوب انسان
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸
میں وہ اپنے آپ کو اس طرح ظاہر کرے گویا اس نے خدا اور اس کے دین کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنا رکھا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص امت کی حالت زار پر تقریریں اور بیانات شائع کر رہا ہو مگر اس کی زندگی میں ایک رات بھی ایسی نہ گزری ہو جب کہ امت کے درد میں اس کی نیند اُڑ جائے اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اس کی زبان سے نکلے کہ "خدایا تو انھیں ہدایت دے ، خدایا مجھے طاقت دے کہ میں ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا سکوں ۔ " تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امت کے درد سے زیادہ اس کو خود اپنا پروپیگنڈا ہے۔ کیونکہ اس عنوان کو اختیار کیے بغیر وہ پریس اور اسٹیج سے اپنے آپ کو نمایاں نہیں کر سکتا۔ منبر کے گرد بات چیت میں اگر کوئی شخص مظلوم انسانوں کی حمایت پر گرما گرم حصّے لے رہا ہو مگر اس کی روز مرہ کی زندگی مظلوم انسانوں کی ہمدردی سے خالی ہو تو یہ ہمدردی کا نہیں بلکہ ریا کاری کا ثبوت ہے۔ رسمی قسم کے بحث و مباحثہ میں اگر کوئی شخص اصول اور ضابطے کا بہت حوالہ دِیا ہو، مگر اس گفتگو کے باہر جو زندگی وہ گزارتا ہے وہ بے اصولی کا نمونہ ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ حقیقتاً اس کے اندر موجود نہیں ہے اس کو وہ الفاظ کے ذریعہ اپنے اندر ثابت کرنا چاہتا ہے وہ اپنے کو ایک ایسی حیثیت میں ظاہر کر رہا ہے جو کہ دراصل اس کی حیثیت نہیں ہے۔ اگر آپ کسی کو دیکھیں کہ دوسروں پر تنقید کرنے میں اس کی زبان بہت تیز ہے مگر خود اس کو عمل کے جو مواقع حاصل ہیں ان میں وہ خود بھی اسی قسم کی کمزوریاں ظاہر کر رہا ہے جس میں دوسرے لوگ اپنے دائرے کے اندر مبتلا ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو فی الواقع اصلاحِ حال سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کو صرف تنقید عزیز ہے اور اسی کو وہ انجام دے رہا ہے۔
کئی سال پہلے کی بات ہے، میں ایک مرتبہ ٹراڈ کور کے علاقے میں ٹرین سے سفر کر رہا تھا۔ میرے سامنے کی سیٹ پر کچھ عیسائی بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ایک نے کہا۔ "مسلمانوں کے اندر مذہبی اسپرٹ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کا ہر بچہ جب تعلیم شروع کرتا ہے تو سب سے پہلے اس کو قرآن پڑھایا جاتا ہے، یہ نینک یہ بات بڑی حد تک صحیح ہے۔ بلکہ مسلمانوں میں تو یہ روایت رہی ہے کہ وہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سب سے پہلے کتاب الہی کی تلاوت کرتے ہیں۔ اگر چہ موجودہ زمانے کی سطحیات پسندی نے اس ذوق کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور خاص طور پر پڑھے لکھے لوگوں کی صبح تلاوتِ قرآن کے بجائے تلاوتِ اخبار میں بسر ہونے لگی ہے۔ تاہم اب بھی ہمارے یہاں ایسے مردوں اور عورتوں کی کافی تعداد ہے جو کسی نہ کسی حد تک اس روایت کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔ مجھے اس سے انکار نہیں کہ اس قسم کی تلاوت بھی ایک دینی کام ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو جو چیز مطلوب ہے وہ محض الفاظِ قرآنی کی تلاوت نہیں بلکہ "تلاوت حق" ہے جیسا کہ ارشاد ہوا ہے:۔
اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتَابَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ۤ جو لوگ کتاب الہی کے حامل ہیں وہ اس کو اس طرح پڑھتے اُولٰئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ (بقرہ - ۱۲۱) ہیں جیسا کہ اس کے پڑھنے کا حق ہے، یہی اس پر حقیقی مومن ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues