ہہاں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵۰
یہ تلاوت حق جس کو حاصل ہوگئی وہ ہی دراصل قرآن کا قاری ہے اور وہی اس صحیح معنوں میں ایمان لانے والا ہے۔ تلاوت حق کی پہچان کیا ہے۔ اس پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے سب سے پہلے یہ آیت آتی ہے۔
وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّنْ يَّقُولُ اور جب کوئی سورة اترتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ سورة نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا ہے۔ ہاں اس نے آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ٥ (توبہ (۱۲۷) ان لوگوں کا ایمان بڑھا دیا ہے جو واقعی مومن ہیں اور وہ اس کو پاکر خوش ہیں۔
اس آیت سے قرآن پر ایمان پر ایمان رکھنے والوں کی پہچان یہ معلوم ہوئی کہ وہ جب قرآن کو پڑھیں تو اس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو، وہ اپنے بہترین احساسات کو اس کے اندر بولتا ہوا پائیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر عرفان حق کے نقطہ سے تعبیر کیا گیا ہے، فرمایا:
وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو خدا کے رسول پر اترا ہے تو تم تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (مائدہ (۸۳) دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں عرفان حق کے سبب سے۔ اضافۂ ایمان اور عرفان حق دونوں ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں۔ جو لوگ قرآن کے واقعی مومن ہیں وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو یہ کتاب انھیں سراپا حقیقت نظر آتی ہے، وہ حقیقت جس کے متعلق علم انسانی نے تسلیم کیا ہے کہ وہ کبھی اسے معلوم نہیں کر سکتا۔ وہ حقیقت جس کو فلسفہ ہزاروں سال سے تلاش کر رہا ہے مگر وہ اس تک پہنچ نہ سکا، اہل ایمان اس کو خدا کی کتاب میں پا لیتے ہیں۔ قرآن کی شکل میں وہ حقیقت کو دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ طرے ان کے یقین کو بڑھاتا ہے، قرآن کے مضامین اپنے پڑھنے والے سے جس قسم کی جوابی کیفیات کا تقاضا کرتے ہیں ان کا دل ہر مقام پر بالکل اس کے مطابق ڈھلتا چلا جاتا ہے۔ جب زمین و آسمان کی نشانیاں پیش کر کے اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ ان کا خالق کون ہے تو بے اختیار ان کی زبان سے نکل پڑتا ہے، بل انت یارب جب خدا کے احکام بیان ہوتے ہیں اور انسان سے اس کی حیثیت کے مطابق صحیح رویے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ پکار اٹھتے ہیں ربنا آمنا فاكتبنا مع الشاهدين - قرآن کو پڑھتے ہوئے دل کے اندر یہ یقین ابھرتا جا رہا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے، جس مطالعہ سے یہ کیفیت حاصل نہ ہو وہ اندھے بہرے کا مطالعہ ہے۔ (فرقانی مومن جب قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کو اس طرح پڑھتا ہے گویا وہ رب العالمین کی آواز سن رہا ہے، گویا وہ خدا سے ہم کلام ہے، گویا قرآن خود اس کے اوپر نازل ہو رہا ہے۔ قرآن اس کی سب سے محبوب کتاب بن جاتی ہے جس میں وہ اپنے جذبات کی تسکین پاتا ہے، جس سے وہ اپنے دل کی دنیا کو آباد کرتا ہے، جس سے اس کو ایک نئی روشنی حاصل ہوتی ہے جو اس کے تمام عقلی اور روحانی تقاضوں کا جواب بن جاتی ہے۔
قرآن کا یہ پانا محض ایک علمی دریافت کی قسم کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ بندے کا اپنے رب کو پانا بلکہ اس تک Scanned with CamScanner
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues