ہہاں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵۱
پہنچ جاتا ہے۔ تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں کہ بعض لوگوں کے علمی ذوق نے انہیں کتابوں کا عاشق بنا دیا، ہیں کی بھی بہت سی مثالیں ملیں گی کہ کسی فلسفی یا مفکر کی تصنیفات نے لوگوں کو اتنا متاثر کیا کہ وہ بالکل اس کے مومن ہو گئے۔ مگر خدا کی کتاب کا معاملہ اس قسم کے واقعات سے بالکل مختلف ہے۔ یہ کائنات کے خالق و مالک کی کتاب ہے اور ہم اس کے حقیر بندے ہیں۔ اس نسبت کا قدرتی تقاضا ہے کہ قرآن سے ہمارا تعلق محض علمی تعلق نہ ہو بلکہ وہ بندے اور خدا کا تعلق بن جائے۔ ہم جب قرآن کو پڑھیں تو ہمارے اندر پردہ ہیبت طاری ہو جو کہ کائنات کے فرمانروا کا حکم سن کر اس کے ایک عاجز غلام پر طاری ہونی چاہئے۔ اس کو پڑھتے ہوئے ہمارا دل پگھل جائے، ہماری آواز پست ہو جائے، ہمارا پورا وجود سرا پا عجز و نیاز بن کر اس کے آگے جھک جائے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے۔
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتَابًا وہ اللہ ہے جس نے یہ بہترین کتاب اتاری ہے جس کی مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ باتیں آپس میں ملتی ہوئی دہرائی ہوئی ہیں، اس کو سن يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ کر ان لوگوں کے بدن کانپ اٹھتے ہیں جو خدا سے ڈرنے والے اِلَى ذِكْرِ اللهِ (زمر ۔ ۲۳) ہیں پھر ان کے دل اور ان کے جسم خدا کی یاد کی طرف جھکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن خدا سے ڈرنے والوں کے لیے کپکپی پیدا کر دینے والی کتاب ہے، اس کو سن کر ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ اٹھیں خدا کی طرف مائل کرتی ہے، وہ انھیں ذکر الہیٰ میں غرق کردیتی ہے، وہ جب اسے سنتے ہیں تو ان کے قلوب پگھل کر آنکھوں کے راستے سے بہنے لگتے ہیں۔ قرآن کو سنتے یا پڑھتے کے وقت دل کے اندر خدا کی یاد یا در خشوع پیدا ہونا چاہیے، ایسا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی، قسادتِ قلب کی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے۔ (حارید ۔ ۱۶)
یاد رکھیے قرآن سے نا آشنا صرف وہ لوگ نہیں ہیں جن کے لیے یہ کتاب ”مہجور“ بن گئی ہے، جنھوں نے قرآن کو اس طرح پس پشت ڈال دیا ہے گویا کہ وہ اسے جانتے ہی نہیں، گویا ان کی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ شخص بھی قرآن سے محروم ہے جس کے لیے یہ کتاب صرف خوش الحانی کے لیے موزوں الفاظ مہیا کرتی ہو، جس کے لیے وہ محض علمی غور و بحث کا موضوع ہو، جس کے لیے وہ حوالے کی کتاب ہو جس کو وہ تحریر یا تقریر کے وقت الٹ پلٹ کر دیکھ لیتا ہو۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص نے ہزاروں انسانوں کے درمیان صرف قرآن کی بنیاد پر اپنی شخصیت کا سکہ بٹھا رکھا ہو، مگر وہ قرآن کی لغت سے محروم ہو۔ اسی طرح اگر آدمی زبانِ قلم کے ذریعے قرآن کے اسرار و معارف بیان کر رہا ہو مگر اس کی اپنی زندگی ان حقیقتوں سے خالی ہو تو یہ بھی خدا کی کتاب سے محرومی کی ایک قسم ہے۔ دوسروں کو کتاب الہیٰ کا درس دنیا اور خود نسیان میں مبتلا رہنا، قرآن سے تعلق نہیں بلکہ بے تعلقی کا ثبوت ہے (بقرہ - ۴۴)، اگر کسی نے لغت اور نحو کی مدد سے الفاظ قرآن کو حل کر لیا ہو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ قرآن کو بھی پاگیا ہے۔ قرآن کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جس نے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues