Al-Risala · February 1977 · page 454

ہہاں

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵۴

ہونی چاہیے جو لوگوں کے ذہن سے قریب تر ہوتا کہ وہ اس کو قبول کر سکیں ۔ نیز یہ کہ بات کو ایسے الفاظ اور اصطلاحاً میں پیش کیا جائے کہ وقت کا معیار فکر اس کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہو ، وقت کے علمی خیالات کے ساتھ وہ پہلو بہ پہلو حجۃ لے سکے ۔ یہ اگر چہ بذات خود غلط نہیں ہے مگر بعض مرتبہ وہ آدمی کے ذہن میں خدائی تعلیمات کی ایسی تصویر بناتا ہے جو اصل تعلیمات سے زیادہ وقت کے نظریات سے مطابقت رکھنے والا ہو۔ خدائی تعلیمات سے جزوی مشابهت توضر ور اس میں موجود رہتی ہے ۔ مگر در حقیقت وہ اسلامی الفاظ اور اصطلاحات میں غیر اسلامی خیالات کی ترجمانی ہوتی ہے۔

اگر بے جا جسارت نہ ہو تو میں عرض کر دوں گا کہ تصوف جو بعض محققین کے نزدیک یونانی لفظ تھیوسوفیا ( THEOSOFIA ) کی تعریب ہے ، وہ بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے جو دوسری صدی ہجری کے نصف آخر میں محض خارجی اثرات کے تحت اسلام کے اندر داخل ہوگیا ۔ ہمارے قدیم بزرگ جب اسلام کا پیغام لے کر عرب کے باہر دوسرے ملکوں میں گئے تو انھوں نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں کچھ مخصوص افکار و اشغال لوگوں کے ذہنوں پر چھائے ہوئے تھے اور مذہب اور مذہبی زندگی کا تصور ان کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا ہی نہیں بلکہ ان افکار وانتغال کی پشت پر ایک زبردست فلسفہ بھی موجود تھا ۔ ان چیزوں نے کچھ دعوتی مصلحت اور کچھ انفعالی تصور کے تحت ہمارے بزرگوں کو آمادہ کیا کہ وہ اسلام کو اس رنگ میں پیش کریں جس سے لوگ پہلے سے مانوس ہیں۔ اس طرح نبوت کے تقریبا دو سو سال بعد اسلام کی متصوفانہ تعبیر ہماری تاریخ میں داخل ہوگئی ۔

اب قدیم روحانی انداز میں سوچنے کا زمانہ ختم ہورہا ہے اور ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں حب کہ ہر طرف معاشی اور سیاسی تحریکوں کا زور ہے۔ آج کا انسان عام طور پر اس انداز میں سوچتا ہے کہ موجودہ سماجی ڈھانچے کو بدل کر کسی اور بنیاد پر دنیا کا نظام چلایا جائے ۔ یہ اسی قسم کا ایک نیا فتنه ہے جس سے ہمارے پیش روؤں کو سابقہ پیش آیا تھا۔ وہ اگر تعمیر روحانیت کا فتنہ تھا تو یہ تعمیر مادیت کا فتنہ ہے۔ اب اگر ہم نے اس فتنے کو نہ پہچانا اور اس سے اپنے ذہن کو محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کی تو ہم بھی دین کی تعبیر میں اسی قسم کی غلطی کریں گے جو اس سے پہلے صوفیائے کرام سے ہو چکی ہے۔ اور پھر قرآن کی ایک نئی تغیر کر کے قدیم روحانی تصوف کی طرح اسلام کو ایک جدید سیاسی تصوف بنا کر رکھ دیں گے۔ اور اس کے بعد ان تمام نتائج سے دوچار ہوں گے جو سیاسی تحریکوں کے لیے مقدر ہیں۔

نۂ یہ یونانی زبان کے دو لفظوں کا مرکب ہے THEOS بمعنی خدا اور SOFIA بمعنی حکمت انگریزی میں معمولی تغییر کے بعد یہ لفظ THEOSOPHY کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ تھیوسوفی، اس عقیدے یا اصول کے لیے اصلاحی لفظ کے طور پر استعمال ہوتا ہے کہ ہر شخص بلاواسطہ خدا کی معرفت روحانی وجدان سے حاصل کر سکتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page