ہہاں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵۳
دوسری چیز اقسام ہے رہجر۔ 4۔ اقسام کے معنی ہیں بانٹنا، تقسیم کرنا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خدائی تعلیمات کو پوری طرح میں قبول نہ کیا جائے بلکہ اپنی خواہش کے مطابق ٹکڑے کرکے اس کے بعض حصوں کو لیا جائے اور بعض کو چھوڑ دیا جائے۔ تیسری چیز وہ ہے جس کو قرآن میں مضاہاۃ کہا گیا ہے (توبہ ۳۰) مضاہاۃ کے معنی عربی زبان میں مشاکلتہ الشیئ بالشیئ کے آتے ہیں لسان العرب یعنی کسی چیز کو دوسری چیز کے ہم شکل قرار دینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل باطل کے خیالات سے متاثر ہوکر یا دنیوی مصالح کی بنا پر ان کی بات کو اپنا لیا جائے اور اس کو اس طرح پیش کیا جائے گویا وہ خدائی تعلیم کے عین مطابق یا اس کے مشابہ ہے۔
جہاں تک پہلی صورت (تحریف) کا تعلق ہے اس کی بنیاد مکمل طور پر بدنیتی کے اوپر قائم ہے۔ اور ہم سب لوگ اس کی برائی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ مگر دوسری اور تیسری صورت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہ ہفتے کبھی کبھی اچھے خاصے نیک لوگوں میں بھی اس طرح چپکے سے داخل ہو جاتا ہے کہ انہیں خبر نہیں ہوتی اور وہ اپنا کام تمام کرکے بالآخر انہیں کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اکثر حالات میں متاثرہذہن کے ساتھ واقعات کا مطالعہ کرتا ہے۔ وقت کی سوسائٹی میں جن خیالات کی اہمیت تسلیم کی جا چکی ہوتی ہے، قدرتی طور پر وہ ان کا اثر قبول کرتا ہے۔ اسی طرح حقیقی دنیا کی بہت سی صفتیں معصوم شکل میں آکر اس کے ذہن کی سطح سے بار بار ٹکراتی رہتی ہیں۔ یہ چیزیں مل کر کبھی شعوری اور زیادہ تر غیر شعوری طور پر اس کا ایک فکر نہادیتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان جبہ چیزوں کو صرف اس حیثیت سے نہیں دیکھتا جیسی کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اکثر حالات میں وہ مجبور ہوتا ہے کہ چیزوں کو اس حیثیت سے دیکھے جیسا کہ اس کا ذہن انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ اس طرح جب کوئی شخص ایک خاص ذہن لے کر قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ بلا ارادہ اقسام کی ایک صورت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ قرآن کی بعض باتوں کو تو لے لیتا ہے جو اس کے ذہن کے چوکھٹے میں بیٹھ سکتی ہوں اور باقی تمام باتوں کو چھوڑتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح وہ سارا قرآن پڑھ لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے خدا کی کتاب کو پالیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ قرآن سے بالکل بے خبر رہتا ہے۔ اس نے خدا کی کتاب کے بڑے حصہ کو چھوڑ کر اس کے بعض اجزاء کو اپنے خود ساختہ مفہوم میں لے لیا ہے۔ اس نے جو چیز پائی ہے وہ وہی ہے جو اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھی اور جس کی تائید میں اتفاق سے قرآن کی بعض آیتیں بھی اسے ہاتھ آ گئیں۔ ایسے آدمی کی مثال اس تعلیم یافتہ نوجوان کی ہے جو اپنی بے کاری سے پریشان ہو اور صرف "ضرورت ملازمت" کے اشتہارات دیکھنے کے لیے اخبار کا مطالعہ کرتا ہو۔ یہ نوجوان اپنے اس مطالعہ سے ممکن ہے ملازمت کی درخواست بھیجنے کے لیے کچھ پتے حاصل کرلے مگر وہ دنیا کی سیاست سے بے خبر رہے گا اور اخبار بینی کے اصل مقصد کو حاصل نہ کر سکے گا۔ اسی طرح مضاہاۃ کی خرابی بھی آدمی کے اندر خاموشی کے ساتھ داخل ہو جاتی ہے۔ اس میں ماحول کے ذاتی تاثر کے علاوہ خاص طور پر تبلیغی ضروریات کا بھی کچھ دخل ہوتا ہے۔ یہ خیال کہ جو بات لوگوں سے کہنی ہے وہ ایسی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues