Al-Risala · February 1977 · page 34

Scanned with CamScanner

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۴

ایک لیڈر جب وزیر ہو جائے یا کسی بڑے سیاسی عہدہ پر پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لئے اپنے محکمہ میں کوئی کام نہیں رہتا، اس کا کام ہمیشہ کسی ایسے مقام پر ہوتا ہے جو اس سے ہزاروں میل دور ہو۔ اس کے قدموں کے نیچے جو زمین ہے ، وہ مسائل کا انبار لئے ہوئے کراہ رہی ہوگی ، مگر یہ کراہ اس کو سنائی نہ دے گی ، البتہ دور کے کسی مقام پر مسائل انسانی پر ایک سیمینار ہورہا ہو تو اس کا افتتاح کرنے کے لئے اس کے پاس کافی وقت ہوگا۔ ہمارے حکمرانوں کی اسی روش کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک عظیم ملک اتنی لمبی مدت سے ان کے زیرِ انتظام ہے ، مگر وہ ملک کو اس کے سوا کوئی اور تحفہ نہ دے سکے کہ اس کو مہنگائی، رشوت، بدعنوانی اور بے انصافی سے بھر دیں۔

یہی روایت ہمارے ملی رہنماؤں میں بھی گھس آئی ہے۔ ہمارے رہنماؤں کی پہنچ اتنی بلند نہیں جتنی ملک کے سیاسی عہدہ داروں کی ہوسکتی ہے۔ تاہم اپنے دائرہ میں وہ بھی ٹھیک اسی عمل کو دہرارہے ہیں جس کا نمونہ ان کے حکمرانوں نے ۳۰ سال سے قائم کر رکھا ہے۔ ہمارے ہر رہنما کا خیال ہے کہ اس کے قدموں کے نیچے اس کے لئے کوئی کام نہیں۔ چھوٹے رہنماؤں کی پرواز چند سو میل کے دائرہ تک محدود ہے۔ جو اس سے بڑے ہیں ان کا کام ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہوتا ہے اور جو اور بڑے ہیں وہ بین اقوامی دائرہ میں اپنی خدمات انجام دینے کے لئے کام پارہے ہیں ۔ غرض ہر ایک کا کام دور کے کسی علاقہ میں واقع ہے جہاں وہ چند روز کے لئے مہمان بن کر جائے اور اعزازات کے ماحول میں شان دار تقریر کر کے اس طرح لوٹے کہ دوبارہ اسی قسم کے کسی دور دراز مقام پر واقع ایک اسٹیج اس کے جلووں کا انتظار کر رہا ہو۔

خدا یہ کام کرنے کا طریقہ نہیں۔ اگر ہمارے رہنماؤں کی یہ روش باقی رہی تو ۱۹۴۷ء کے بعد کے دور کو بھی ہم اسی طرح کھودیں گے جس طرح اس سے پہلے کے دور کو ہم کھو چکے ہیں۔ کام کا یہ طریقہ صرف عالی شان قیادتیں وجود میں لا سکتا ہے وہ عالی شان قوم وجود میں نہیں لا سکتا۔ اس قسم کی قیادتیں قوم کو جو آخری وراثت دے سکتی ہیں، وہ صرف شان دار مقبرے ہیں۔ وہ قوم کو شان دار مستقبل تک نہیں پہنچا سکتیں۔

کیا لوگوں کو یہ ڈر نہیں کہ خدا کے یہاں ان سے پوچھا جائے گا کہ جو مواقع انہیں دیئے گئے تھے ان کو انھوں نے کہاں خرچ کیا۔ یا وہ اتنے نادان ہیں کہ انھیں خبر ہی نہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے انھیں کیا کرنا چاہئے۔

Scanned with CamScanner

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page