صنعتی نظام کا تضاد
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۳
ایک شخص مقام اضطرار پر ہو تو صرف دعا کے کلمات ہی نصرت الہیٰ کو کھینچنے کے لئے کافی ہیں، مگر جو شخص یا گروہ مقام اضطرار پر نہ ہو بلکہ اس کو جد و جہد کے مواقع بھی حاصل ہوں ، اس کے لئے دعا کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ اپنی دعا کے موافق عمل کرے ۔ (فاطر - ۱۰)
دعا کے موافق عمل کیا ہے، یہ اس دعا سے متعین ہوتا ہے جو کسی معاملہ میں نصرت کو طلب کرنے کے لئے آدمی مانگ رہا ہو۔ اگر کوئی شخص قرآن کے اسرار و حکم جاننے کی دعا کر رہا ہو تو اس کے لئے اس دعا کے موافق عمل یہ ہوگا کہ وہ کتاب الہی میں تدبر کرے ۔ کوئی شخص نصرت حق کا طالب گار ہے تو اپنی دعا کے ساتھ اس کو معاش کی راہوں میں اپنی ممکن جد و جہد صرف کرنی ہوگی۔ اغیار کے خلاف نصرت رعب مطلوب ہے تو اپنے درمیان اتحاد پیدا کرنا ہوگا ۔ اعدائے اسلام پر نصرت فتح کی دعا کی جا رہی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ ان کے اوپر دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا جائے اور اس کو اتمام حجت کی حد تک لے جانے کی کوشش کی جائے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو پوری طرح آگاہ کرنے سے پہلے ہلاک نہیں کرتا۔
اللہ کا وعدہ ہے کہ اہل اسلام اگر ۳۰ ہوں تو اہل باطل کے ۲۰ پر غالب آئیں گے۔ مگر ضروری ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان یہ فرق باعتبار کمیت نہ ہو نہ کہ باعتبار نوعیت یعنی اہل باطل جس چیز میں دسو“ ہوں ، اہل حق کو اسی چیز میں بیس“ ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہو کہ ایک طرف دو سو بندوقیں ہوں اور دوسری طرف بیس تلواریں تو یہ وعدہ متحقق نہ ہوگا۔ کیونکہ اس صورت میں فرق کمیت کا نہ رہا، نوعیت کا ہو گیا۔ اسی طرح اگر اہل اسلام کے پاس روایتی علم ہو اور اہل باطل کے پاس سائنسی علم۔ اہل اسلام جوش سے مسلح ہوں اور اہل باطل نے ہوش کا خزانہ جمع کر رکھا ہو، اہل اسلام کے پاس زمانہ سے بے خبری ہو اور اہل باطل کے پاس زمانہ سے آگاہی، اہل اسلام کے پاس اختلاف کا سرمایہ ہو اور اہل باطل کے پاس اتحاد کا۔ اہل اسلام کے پاس بے ترتیبی ہو اور اہل باطل کے پاس منصوبہ بندی، اہل اسلام قدیم قوتوں کے مالک ہوں اور اہل باطل جدید قوتوں کے، تو اہل اسلام کو کبھی یہ توقع نہ رکھنی چاہئے کہ وہ اپنے حریف کے مقابلہ میں نصرت خداوندی کے مستحق قرار پاسکتے ہیں۔ کیونکہ ان تمام صورتوں میں دونوں گروہوں کے درمیان نوعی فرق ہے اور جب نوعی فرق پایا جائے تو کسی بھی تعداد پر کوئی نصرت نازل نہیں ہوتی۔ جب بھی ایسا ہو کہ دونوں گروہوں کے درمیان فرق باعتبار نوعیت ہو جائے تو اہل اسلام کا پہلا کام یہ ہوگا کہ اس کو ختم کر کے کمیت کی سطح پر لے آئیں ۔ اس کے بعدی وہ نصرت الہیٰ کے مستحق قرار پا سکتے ہیں۔ (الاسلام ، صفحہ ۹۷ - ۹۰)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues