Al-Risala · February 1977 · page 36

كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶

ایسا بنا دیا گیا کہ زیادہ اتنے غیر اہم لوگ ہیں جن کا ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

نبیوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے، اپنی مخاطب قوموں کی روش پر تنقید ۔ انسان کو سب سے زیادہ جو چیز محبوب ہے، وہ ہے اپنی تعریف اور جو چیز سب سے زیادہ مبغوض ہے، وہ ہے اپنے خلاف تنقید ۔ انبیاء چونکہ صحیح اور غلط کو بتانے کے لئے آتے ہیں، وہ اپنے ہم قوموں سے مصالحت نہیں کرتے۔ وہ ان کی اعتقادی اور عملی غلطیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس لئے قوم ان کی مخالف بلکہ دشمن ہو جاتی ہے ۔ انبیاء اگر لوگوں کی دل پسند تقریریں کرتے تو کبھی ان کو اس صورت حال سے دوچار ہونا نہ پڑتا۔ اس عمومی انجام میں صرف چند نبیوں کا استثناء ہے۔ مثلاً حضرت داؤد، حضرت سلیمان ، حضرت یوسف علیہم السلام ۔ مگر ان حضرات کو جو عروج و اقتدار ملا، وہ ان کے نظریات کی عوامی مقبولیت کا نتیجہ نہ تھا۔ اس کے اسباب بالکل دوسرے تھے۔

حضرت داؤد اسرائیلی بادشاہ ساؤل کی فوج میں ایک جوان سپاہی تھے۔ ان کے زمانہ میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں میں جنگ ہوئی فلسطینی فوج میں جالوت نام کا ایک دیو ہیکل پہلوان تھا جس سے مقابلہ کرتے ہوئے تمام لوگ ڈرتے تھے۔ بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شخص اس کو قتل کرے گا اس میں اپنی لڑکی کی شادی اس سے کر دوں گا۔ حضرت داؤد نے مقابلہ کیا اور اس کو مار ڈالا، اسطرح وہ اسرائیلی بادشاہ کے داماد بن گئے۔ اس کے بعد جب ایک جنگ میں بادشاہ اور اس کا دلی عہد دونوں ہلاک ہو گئے تو تخت حضرت داؤد کے حصہ میں آگیا۔ حضرت سلیمان آپ کے بیٹے تھے اور ان کو حکومت اپنے باپ سے وراثت میں ملی۔ حضرت یوسف کو تبریز شاب کا علم دیا گیا اس سے مصر کا مشرک بادشاہ متاثر ہو گیا، اور اپنے اقتدار اعلیٰ کے تحت حکومتی انتظامات آپ کے سپرد کر دیے۔ تاہم بادشاہ اور عام مصری باشندہ بدستور اپنے مشرکانہ دین پر قائم رہے۔

اس صورت حال کا نقصان صرف یہی نہیں ہوا کہ ہر دور کی بیشتر آبادی خدا کی نعمتِ ہدایت سے محروم رہی، اس سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ کوئی پیغمبر خدا کی طرف سے جو کتاب اور پیغامات لے کر آتا تھا ، اس کے بعد اس کو محفوظ رکھنے کا سامان نہ ہو سکتا کیونکہ پیغمبر کے بعد اس کے متبعین ہی اس کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ مگر وہ یا تو حاصل نہیں ہوئے یا اتنے کم تھے کہ سماج کے علی الرغم کلام الہیٰ کی حفاظت نہ کر سکتے تھے۔

خدا جس کا علم ازل سے ابد تک پھیلا ہوا ہے، جو آنے والے مستقبل کو بھی اسی طرح دیکھ رہا ہے جس طرح گزرے ہوئے ماضی کو، ہمارے انسانیت کا یا انجام معلوم تھا اس لئے اس نے پہلے ہی یہ مقدر کر دیا تھا کہ پیغمبرانہ دور کے آخری مرحلہ میں وہ اپنا ایک خاص نمائندہ بھیجے گا۔ اس پیغمبر کو دعوت دین کے ساتھ اظہار دین کی نسبت بھی حاصل ہوگی اس کو یہ نصرت خاص دی جائے گی کہ وہ ہر حال میں اپنے مدعوئین پر غلبہ حاصل کرنے اور راہِ حق کے آگے جھکنے پر مجبور کرے (لن يقبضه حتى يقيم به الملة العوجاء) خدا کی فوج اس کا ساتھ دے کر اس کے مخالفوں کو زیر کرے گی، تا کہ خدا کا دین ہمیشہ کے لئے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جائے۔ اور خدا کی کتاب کی حفاظت کا مستقل انتظام ہو سکے۔ بائبل کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page