كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷
کے الفاظ میں" جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہوا ہے، اسی طرح زمین خداوند کے جلال کے عرفان سے معمور ہو (حبقوق ۴ : ۱۲) اللہ تعالیٰ نے اپنے اس منصوبہ کو، بائبل کی شہادت کے مطابق، ہزاروں برس پہلے سے مختلف انبیاء کے ذریعہ مظاہر کرنا شروع کر دیا تھا، چنانچہ بتا دیا گیا تھا کہ وہ نبی عرب کے صحرائی جغرافیہ سے اٹھے گا۔ وہ بنی اسرائیل کے بقیہ گھرانے یعنی ان کے بھائیوں (یعنی اسماعیل) کی اولاد سے ہوگا۔ وہ حضرت مسیح کے بعد آئے گا۔ اس کے ساتھ خدا کے خریدے ہوئے کہلائیں گے۔ جو قومیں ان سے ٹکرائیں گی پاش پاش ہو جائیں گی۔ ازلی پہاڑ (ایران و روم جھک جائیں گے۔ اس کی سلطنت خشکی سے لے کر بحری ممالک تک پھیلی ہوئی ہوگی۔ وغیرہ موجودہ بائبل اگرچہ ترجمہ اور الحاقات کے نتیجہ میں اصل بائبل سے بہت کچھ مختلف ہو چکی ہے۔ تاہم آج بھی کثیر تعداد میں اس کے اندر ایسے بیانات موجود ہیں جو ایک غیر جانب دار آدمی کے لئے آنے والے آخری نبی کے سوا کسی اور ذات پر صادق نہیں آتے۔ خاص طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا تو خاص مشن یہی تھا کہ وہ دنیا کو خصوصاً یہود کو آنے والے نبی سے آخری طور پر آگاہ کردیں ۔ آپ نے جس نئے عہد نامہ کی بشارت دی وہ حقیقت اسلام تھا جو یہود کی معزولی کے بعد بنی اسماعیل کے ذریعہ باندھایا ۔ انجیل نئے عہد نامہ کی بشارت ہے نہ کہ خود نیا عہد نامہ ۔
حضرت مسیح علیہ السلام ، بنی آخر الزماں سے چھ سو سال قبل تشریف لائے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۶۱ میں ارشاد ہوا ہے کہ حضرت مسیح نے فلسطین کے یہودیوں سے کہا کہ اللہ نے مجھے ایک آنے والے نبی سے پہلے اس کا مبشر بنا کر بھیجا ہے جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا (الصف - ۶)۔
احمد اور محمد دونوں ہم معنی الفاظ ہیں جن کے معنی ہیں " تعریف کیا ہوا ہے ۔ انجیل برناباس میں صاف صاف لفظ " محمد آیا ہے۔ تاہم چونکہ مسیحی حضرات انجیل برناباس کو جعلی انجیل کہتے ہیں، اس لئے ہم اس کا حوالہ مناسب نہیں سمجھتے۔ نیز ہمیں اس میں شبہ ہے کہ حضرت مسیح نے اپنی پیشین گوئی میں لفظ احمد یا محمد کیا ہوگا۔ زیادہ قرین قیاس بات یہ ہے کہ آپ نے احمد یا محمد کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال فرمایا۔
محمد بن اسحاق (م ۱۵۲ھ) کی ایک روایت جو ابن ہشام نے نقل کی ہے، اس کے مطابق یہ لفظ غالبا "منحمنا " تھا۔ ابن اسحاق سیرت کے موضوع پر سب سے زیادہ اہم ماخذ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی روایت ہے کہ مجھے بتانے والوں نے بتایا کہ یحنس (یوحنا) کی انجیل میں آنے والے رسول کی جو پیشین گوئی ہے، اس میں اس کا نام منحمنا بتایا گیا ہے (تہذیب سيرة ابن ہشام جلداول، صفحہ ۵۰) اغلبية روایت انھیں اپنے زمانہ کے فلسطینی عیسائیوں کی معرفت پہنچی جو اس وقت اسلام کے زیر اقتدار آ چکا تھا۔ منخمنا سریانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں " تعریف کیا ہوا "۔ ماضی کے اثر سے اس وقت تک فلسطین کے باشندوں کی زبان سریانی تھی۔ اغلب ہے کہ حضرت مسیح اپنی مادری زبان میں بولا ہو اصل لفظ (منحمنا) انجیل کی روایات میں چلا آرہا تھا جو بعد کے ترجموں میں باقی نہ رہ سکا۔
یہاں ہم بائبل (قدیم اور جدید عہد ناموں) سے کچھ اقتباسات بغیر کسی کمی یا اضافہ کے نقل کرتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues