نبوت محمدی کا ظہور
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹
حقیقی نقصان نہیں پہنچا، جب کہ انہوں نے اپنے اندرونی اختلاف کی وجہ سے اسپین کو کھودیا۔ اس کے بعد اسلام کی اندرونی طاقت نے ترکوں اور مغلوں کو کھڑا کیا۔ ترکوں نے ۵۳ ۱۴ء میں قسطنطنیہ کو فتح کیا اور مشرقی یورپ میں یوگوسلاویہ تک پہنچ گئے۔ دائنار کے سامنے ۱۴۸۴ء تک ایک ترک فوج موجود تھی سولھویں صدی میں مغلوں نے برصغیر ہند اور افغانستان کے علاقہ میں اسلام کا اقتدار قائم کیا۔ تیرہ صدیوں کے بعد اس تووسیع کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا کے تقریباً تمام حصوں میں مسلمان موجود ہیں۔ ایشیا اور افریقہ سے لے کر یورپ تک تقریباً چار درج ملک کا ایک مسلم علاقہ بن چکا ہے۔ مو تمر عالم اسلامی کے شائع کردہ عالمی مسلم گزٹیر (۱۹۷۵ء) کے مطابق آج دنیا بھر میں اہل اسلام کی تعداد ۱.۹ کروڑ ہے۔
یہ سب جو ہوا، اس ۲۳ سالہ عمل کا نتیجہ تھا جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں عرب میں انجام دیا گیا تھا۔ ۲۳ سال کی مدت میں ایک ایسا انقلاب آنا جو نہ صرف تاریخ انسانی میں دائمی طور پر مثبت ہو جائے بلکہ خود اپنی ایک مستقل تاریخ پیدا کرے، کسی انسان کے بس کی چیز نہیں۔ یہ ایک خدائی معاملہ تھا اور اسی نے اس کو انجام دیا۔ بدر کی فتح کے بعد جب مسلمان واپس ہوئے تو روحار کے مقام پر کچھ لوگ ملے جنہوں نے ان کو فتح کی مبارک باد دی ۔ سلمہ بن سلامہ نے جواب دیا: تم لوگ کس چیز کی مبارک باد دے رہے ہو۔ خدا کی قسم یہ تو گویا بندھے ہوئے اونٹ تھے جن کو ہم نے ذبح کر دیا۔ (کانا بل المعقلقة فتحوناها، تہذیب سيرة ابن هشام - ۱۵۳)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خصوصی اہتمام سے پیشگی اس کے اسباب فراہم کردیے تھے۔ عرب کے خشک جغرافیہ میں ایک ایسی قوم جمع کر دی گئی جس میں صحرائی زندگی کے نتیجہ میں کردار کی صلا بہت غیر معمولی حد تک پائی جاتی تھی ۔ وہ اقرار اور انکار کے درمیان کسی تیسری چیز کو نہ جانتے تھے، ان کے اندر وہ تمام فطری خصائص پوری طرح محفوظ تھے جو کسی تحریک کا مجاہد بننے کے لئے ضروری ہیں۔ پھر عرب کے جزیرہ نما کے گرد اس وقت کی دنیا کی دوسرے بڑی سلطنتیں قائم کردی گئی تھیں، بالکل فطری تھا کہ وہ اپنے پڑوس میں ایک نئی ابھرتی ہوئی طاقت کو برداشت نہ نہ کریں اور اس کے خلاف جارحیت کا آغاز کر دیں۔ اس طرح ان کی جارحیت اس اسلام کے لئے جواز فراہم کر دے کہ وہ دنیا کے اس سرے سے اس سرے تک ملکوں کو فتح کرتے چلے جائیں کیونکہ عملاً اس وقت کی تقریباً تمام دنیا انھیں دونوں جاس قوموں کا علاقہ تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی لڑائیاں دوسروں کے خلاف جارحیت نہیں تھیں، بلکہ یہ دوسروں کی جارحیت کا جواب تھا جو ہمیشہ تمام دنیا میں جائز سمجھا گیا ہے۔
اس طرح جو واقعات ظہور میں آئے، ان کی اہمیت صرف سیاسی تھی۔ اس سے زیادہ بڑی بات یہ تھی کہ اس انقلاب کے ذریعہ انسانی تاریخ کے بند دروازے کو کھول دینا مقصد تھا۔ اس کے ذریعہ وہ انقلاب آنا تھا جو دین حق کو ایک تاریخی حقیقت بنا دے، جو اس سے پہلے تاریخی واقعہ کی حیثیت حاصل کرنے سے محروم تھا۔ وہ پر نہیں کا دور لے لئے جس کے بعد قرآن کی دائمی حفاظت کا انتظام ہو جائے۔ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ آئے۔ جو اعلان حق کے لئے حق کی اشاعت کی راہ سے تمام مصنوعی رکاوٹوں کو مٹا دے۔ اس سے طبیعیاتی علوم کی وہ دریا فتیں ظاہر ہوں جو دین کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues