Al-Risala · February 1977 · page 40

نبوت محمدی کا ظہور

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۰

صداقت کو عقلیاتی سطح پر مدلل ومبرہن کر دیں۔

اس انقلاب کا اس سے بھی اہم پہلو یہ ہے کہ نبی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے قیامت سے پہلے قیامت کا منظر دکھا دیا۔ سچے لوگوں کو آپ کے ذریعہ غالب کر دیا گیا، جو آخرت میں دائمی برتری حاصل کریں گے، اور برے لوگوں کو آپ کے ذریعہ مغلوب کر دیا گیا جو آخرت میں دائمی پستی اور مغلوبیت کا شکار رہیں گے۔

تاریخ کا یہ اندوہناک منظر ہے کہ خدا کے سچے پرستار یہاں ہمیشہ دبے اور پسے ہوئے نظر آتے ہیں، اور دولت اور اقتدار کو پوجنے والوں کو یہاں تفوق حاصل رہتا ہے۔ تمام انبیاء اور صلحاء کی تاریخ یہی بتاتی ہے۔ یہ صورت حال حقیقی صورت حال کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ بالاخر جو ہونے والا ہے، وہ تو یہ کہ خدا اپنے پرستاروں کو دائمی عزت اور برتری عطا فرمائے گا اور جولوگ اپنے نفس کی اور دنیا کی پوجا میں لگے رہے، ان کو ہمیشہ کے لئے ذلت اور رسوائی میں دھکیل دے گا۔

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں لوگوں کو موقع ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔ اس لئے یہاں خدا کسی کا ہاتھ نہیں پکڑتا۔ تاہم پیغمبر اسلام کے ذریعہ، کم از کم ایک بار اس زمین پر وہ منظر ابتدائی شکل میں دکھا دیا گیا ہے جو کامل اور دائمی صورت میں آخرت میں سامنے آنے والا ہے۔ آپ کے ساتھی جن کا حال یہ تھا کہ ان کے گھروں کا جاڑا گیا، جن کے لئے زمین کو تنگ بنا دیا گیا، جن کی معاشیات تباہ کر دی گئیں، جن کو اس قدر خوف وہراس میں مبتلا کیا گیا کہ ان کو ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا کہ لوگ انہیں اچک لیں گے ان کو عزت اور اقتدار کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔ دوسری طرف قریش اور سعود، رومی اور ایرانی، یعنی اور نفسانی اور جسمانی جو دولت اور اقتدار کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ان کو ذلیل کر کے پستی کے گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ ہر نبی جو خدا کی طرف سے آتا ہے، وہ زمین پر خدا کی عدالت ہوتا ہے۔ اس کی معرفت خدا اپنے ان فیصلوں سے لوگوں کو باخبر کرتا ہے جسے وہ کوہ آخرت میں براہ راست خود سنانے والا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام کے ذریعہ یہ عدالت الہی ایسی خصوصی شکل میں ظاہر ہوئی کہ وہ خود تاریخ انسانی کا جزو بن گئی جس طرح بہت سے دوسرے انسانی تجربات تاریخی حقیقت کا درجہ اختیار کر چکے ہیں، اسی طرح یہ واقعہ بھی ایک تاریخی حقیقت کی حیثیت سے انسانی معلومات میں ثبت ہو چکا ہے کہ خدا اپنے متقی بندوں کو سرفراز کرتا ہے اور جو لوگ سرکشی اختیار کریں، ان کو ذلت وبربادی کے دائمی عذاب میں دھکیل دیتا ہے جنت اور جہنم اگر چہ دوسری دنیا میں قائم ہونے والی حقیقتیں ہیں مگر انسان کی نصیحت کے لئے اللہ نے اس کا ایک ابتدائی منظر اسی دنیا میں لوگوں کو دکھا دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ نسبت محمدی کا ظہور، خدا کی خدائی کا ظہور تھا، اسی لئے انجیل میں اس کو خدا کی بادشاہی" سے تعبیر کیا گیا ہے آپ کے لائے ہوئے انقلاب کی بلاشبہ سیاسی اور عمرانی اہمیت بھی ہے اور دوسری بہت سی اہمیتیں بھی۔ مگر اس کی سب سے اہمیت یہ ہے کہ وہ انسان کو خدا کے جلال کا مشاہدہ کراتا ہے۔ وہ خدا کی عدالت کا منظر دکھارہا ہے، اس نے ان حقیقتوں کو آخرت سے پہلے انسان کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے جن کو انسان آخرت میں اپنی آنکی شکل میں دیکھے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page