Al-Risala · February 1977 · page 52

آپ بیتی

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۲

آپ بیتی

۱۹۵۴ء میں جب کہ میں بنارس ہندو یونیورسٹی میں انجینیرنگ کا طالب علم تھا، ایک واقعہ پیش آیا جو کہ اب تک مجھے یاد ہے۔ میرے استاد ڈاکٹر پران ناتھ نے لاپلاس ٹرانسفارم کو پڑھانا شروع کیا تو انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک دلچسپ کہانی ہے جو ہمارے موجودہ پرنسپل سے متعلق ہے۔ یہ پروفیسر ایم۔ سین۔ گپتا تھے جو اس وقت ہندو یونیورسٹی کے انجینیرنگ کالج کے پرنسپل تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔

پروفیسر گپتا مزید تعلیم کے لیے گلاسگو یونیورسٹی گئے تھے اور وہاں سے انھوں نے ٹاپ کیا تھا۔ گلاسگو کا پروفیسر ایک روز بلیک بورڈ پر ایک الیکٹریکل پرابلم کو حل کر رہا تھا۔ اس درمیان میں DIFFERENTIAL EQUATION کا ایک سوال آگیا۔ گلاسگو پروفیسر نے اس کو عام طریقے سے حل کیا، جس میں کافی وقت لگا اور سارا بلیک بورڈ بھر گیا۔ پروفیسر گپتا نے اس موقع پر اپنے پروفیسر سے کہا: میرا خیال ہے کہ یہاں لاپلاس ٹرانسفارم کو اپلائی کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ سوال بہت مختصر طریقے سے حل ہو جائے گا۔ پروفیسر نے اس تجویز پر عمل کیا تو صرف دو لائنوں میں سوال حل ہو گیا۔ اگرچہ دونوں طریقوں کا آخری جواب ایک ہی تھا۔ مگر پروفیسر نے کہا: جب مختصر طریقہ ہمارے پاس موجود ہے تو لمبے طریقے کو اختیار کرنا ہی سرے سے غلط ہے۔ اس نے بلیک بورڈ پر اپنے حل کو مٹا دیا اور پروفیسر گپتا کے طریقے کو لکھتے ہوئے کہا: THIS IS THE ONLY METHOD یہی واحد طریقہ ہے۔

اسی قسم کا ایک اور واقعہ ۱۹۶۴ء کا ہے، حکومت ہند کی وزارت تعلیم نے امریکی حکومت کے ایجوکیشن ڈویژن کے تعاون سے ”سمر اسکول فار ٹیچرس“ کا ایک پروگرام شروع کیا۔ ہندوستانی شخصیتوں کے علاوہ تین امریکی پروفیسر آئے تھے، اس وقت میں چندولی پالی ٹکنیک میں سینیر لکچرر تھا اور اسی حیثیت سے چنڈی گڑھ کے اسکول میں شرکت کی تھی۔ یہ پہلا کورس تھا جو ۱۵ جون سے ۲۴ جولائی ۱۹۶۴ء تک ہوا۔

امریکی پروفیسر مچل نے ایک روز کلاس میں سوال کیا: WHO ARE CREATIVES تخلیقی لوگ کون ہوتے ہیں۔ مختلف لوگوں نے مختلف نام لیے۔ ایک شخص نے کہا پوئیٹ (شاعر) پروفیسر نے کہا، کیا (WHAT) پروفیسر مچل کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ بار بار ”واٹ“ کہتے رہے اور ہمارے ساتھی بار بار ”پوئیٹ“ دہراتے رہے۔ بالآخر انھوں نے اس کی اسپیلنگ بتائی: پی او ای ٹی۔ اب پروفیسر مچل سمجھ گئے کہ ہمارے ساتھی کی مراد شاعر سے ہے۔ مگر ہندوستانی اور امریکی تلفظ کے فرق کی وجہ سے وہ سمجھ نہیں پاتے تھے، کیونکہ ہندوستانی تلفظ اس لفظ کا پوئیٹ ہے جبکہ امریکی تلفظ میں اس کو پائیٹ کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا:

YOU ARE RIGHT, I AM WRONG BECAUSE I AM IN YOUR COUNTRY آپ صحیح ہیں۔ میں ہی غلطی پر ہوں کیونکہ میں اس وقت آپ کے ملک میں ہوں۔

عبدالحفیظ خاں (پیدائش ۱۹۳۴ء)

پرنسپل گورنمنٹ پالی ٹکنیک فیض آباد

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page