کام میں انہماک
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۱
بڑی مخلص عورتیں تھیں، میری روٹی بھی پکا دیتیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچنے پر زبیر کو ایک زمین جاگیر کے طور پر دیدی جو مدینہ سے دور میل کے فاصلہ پر تھی۔ میں وہاں کام کے لیے جایا کرتی اور وہاں سے اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں لاد کر لاتی۔ ایک بار میں اس طرح آرہی تھی اور گٹھڑی میرے سر پر تھی، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔ وہ اونٹ پر آرہے تھے اور انصار کی ایک جماعت ساتھ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر اونٹ کو ٹھہرایا۔ اور اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تا کہ میں اس پر بیٹھ جاؤں۔ مجھے مردوں کے ساتھ جاتے ہوئے شرم آئی اور یہ بھی خیال آیا کہ زبیر کو غیرت بہت زیادہ ہے ان کو یہ ناگوار نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے انداز سے سمجھ گئے کہ مجھ کو اونٹ پر بیٹھتے ہوئے شرم آرہی ہے چنانچہ آپ آگے بڑھ گئے۔
میں گھر کو آئی اور زبیر کو پورا قصہ سنایا۔ میں نے کہا کہ مجھے مردوں کے ساتھ اونٹ پر بیٹھتے ہوئے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ زبیر نے کہا، خدا کی قسم تمہارا اگٹھلیاں سر پر رکھ کر لانا میرے لیے اس سے بھی زیادہ گراں ہے۔
مدینہ کی زندگی میں عورتوں کے اس طرح کثرت سے واقعات ہیں۔ اس وقت عورتیں نہ صرف گھر کا بلکہ باہر کا بھی اکثر کام کرتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مرد زیادہ تر جہاد اور تبلیغ دین وغیرہ میں مشغول رہتے تھے۔ ان کو موقع نہیں ملتا تھا کہ گھر کی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ چنانچہ ان کی عورتوں نے گھر کے کاروبار کو سنبھال لیا تھا حتیٰ کہ جانوروں کی دیکھ بھال اور زراعت اور باغبانی بھی وہ کرنے لگی تھیں۔
کام میں انہماک
سر جادو ناتھ سرکار ( ۱۹۵۸ء ۔ ۱۸۷۰ء) کو مغل تاریخ کا کولمبس کہا جاتا ہے۔ یہ مقام انھیں کس غیر معمولی انہماک کے ذریعہ ملا، اس کا ایک ہلکا سا اندازہ ان کے خطوط سے ہوتا ہے جو انھوں نے اپنے استاد ڈاکٹر رگھو بیر سنہ کو اپنی عمر کے آخری ۷ ۲ برسوں میں لکھے۔ ۸۰ برس کی عمر کو پہنچ کر بھی ان کے کام کا شوق اتنا بڑھا ہوا تھا کہ کلکتہ میں اپنے وسیع مکان کو چھوڑ کر وہ صرف اس لئے کام کی نیت چلے گئے کہ کلکتہ کے ناموافق موسم کی وجہ سے وہ وہاں پوری طرح کام نہیں کر سکتے تھے۔ یہ منتخب ۳۲۹ خطوط جس زمانہ ( ۱۹۵۸ء ۔ ۱۹۳۲ء) سے تعلق رکھتے ہیں، اس میں ملک کے اندر اور باہر زبردست واقعات ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم، ہندوستان کی آزادی، مہاتما گاندھی کا قتل، وغیرہ۔ مگر خطوط میں ان واقعات کا کوئی حوالہ نہیں ملتا۔ تاہم دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کی خبر انھیں متاثر کرتی ہے ۲۸ جون ۱۹۴۵ء کو وہ اپنے ایک دوست کو لکھتے ہیں: ”اگر تم اپنے لندن کے فوٹو گرافر کو خط لکھو تو اس کو ہدایت کرو کہ وہ برٹش میوزیم کے (دفتلاں) مخطوطہ کی فوٹو اسٹیٹ کاپی لے لے۔ یورپ میں امن قائم ہو جانے کی وجہ سے برٹش میوزیم نے اپنے مخطوطات کے ذخیرہ کو شاید دوبارہ نکال لیا ہو جو جنگ کے زمانہ میں تہ خانوں میں رکھ دئے گئے تھے “۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues