Al-Risala · February 1977 · page 54

ایک فتنہ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۴

سارا زور اس لیے ہے کہ فلاں شخص سے ان کو مدد مل گئی ہے رِاعانہ علیہ قوم آخرون) کبھی یہ کہہ کر معاملہ کو مشتبہ کرتے ہیں کہ یہ تو ایک آدمی کی بات ہے ان ھذا الا قول البشر) کبھی کہتے ہیں کہ یہ تو محض کچھ عبراہم لوگوں کا قصہ ہے (اراذلنا بادی الری) وغیرہ ۔

اس قسم کی باتوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ داعی کی حیثیت کو مشتبہ اور اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا جائے۔ مگر داعی حق کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے اور نتیجہ بالکل برعکس نکلتا ہے ۔

سبق آموز

قومی رہنمائی کے کام کے لیے صرف انھیں لوگوں کو اٹھنا چاہیے جو حال کے اندر مستقبل کو دیکھ سکتے ہوں۔ جن کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو، ان کا قومی رہنما بن کر اٹھنا، قومی جرم ہے نہ کہ قومی خدمت چودھری خلیق الزماں (۱۹۴۳- ۱۸۸۸)

پاکستان تحریک کے بانیوں میں سے تھے۔ انھیں اپنے اور پر اتنا اعتماد تھا کہ انھوں نے کہا: "نہرو سے زیادہ سیاست میرا کو جوان جانتا ہے۔ " انھوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں دکھایا ہے کہ پاکستان کے اصل بانی وہی تھے۔ یہ انھیں کا تخیل تھا اور اس وقت تھا جب کہ مسٹر جناح بھی اس کے خلاف تھے۔

مگر آخر عمر میں چودھری صاحب کو یہ احساس ہو گیا کہ انھوں نے تقسیم ملک کی جو تحریک چلائی وہ غلط تھی ۔ ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور (۲۱ اپریل ۱۹۷۲ء) میں ان کا ایک انٹرویو چھپا تھا، اس سے پھر روزنامہ جنگ میں نقل ہوا۔ اس انٹرویو کا ایک حصہ یہ تھا: "متماز مسلم لیگ لیڈر چودھری خلیق الزماں نے روزنامہ جنگ کے نمائندہ کو ایک ملاقات میں انٹرویو دیا اور برصغیر کی تقسیم کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے یہ تقسیم کرا کر ہندوستان کے مسلمانوں کو کمز در کیا اور جن عظیم مقاصد کے لیے پاکستان قائم کیا تھا وہ بھی حاصل نہ ہو سکے۔ اب ہم ایک کوزہ میں بند ہو گئے ہیں۔ ہندوستان میں اب بھی 8 کروڑ مسلمان ہیں، جن کی ہم کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔ اس صورت میں کون کہہ سکتا ہے کہ تقسیم ہند کرا کر ہم نے کوئی فائدہ حاصل کیا۔ " روزنامہ جنگ ، راولپنڈی ۔ ۳۰ اپریل ۱۹۷۲ء مسفوم ( ماخوذ از الفرقان ، جنوری فروری ۱۹)

اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ موجودہ زمانے میں ہمارے تمام قائدین، خواہ وہ مذہبی ہوں یا غیرمذہبی چودھری خلیق الزماں ہی کی مثال ثابت ہوئے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ بعض لوگ مرتے ہوئے چودھری صاحب کی طرح اپنا اقرار نامہ لکھ کر قوم کو دے گئے۔ اور بشیر کا حال یہ رہا کہ آخر وقت تک وہ یہی کہتے رہے یا کہبہ رہے ہیں کہ انھوں نے جو راہ اختیار کی وہی صحیح ترین راہ تھی۔ حالات کے بگاڑ میں ان کا اپنا کوئی حصہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page