Al-Risala · February 1977 · page 55

ایک فتنہ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۵

روداد سفر گنگاپور راجستھان کا ایک شہر ہے جو دہلی سے حد تک فضائی بارش پر ہے۔ بارش کے فضائی انتظام کی سے ٣٠ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ۱۹ اگست، ۱۹۹۱ وجہ سے یہ تمام مسائل پیدا ہوتے ہیں، اور اس کی مصلحت کو ہم دہلی سے پتھروں کے اس شہر کے لئے روانہ ہوئے یہ ہے کہ انسان ایک نعمت کو پا کر اس میں ملن نہ ہو جائے جہاں چہر بھی پتھر کے ہوتے ہیں۔ راستہ میں مسلسل سرسبز بلکہ اس کی تلخیوں کو بھی سمجھے۔ تاکہ خدا کی یاد اس کے ذہن شاداب مناظر آنکھوں کے لئے جنت نظارہ بن رہے میں تازہ رہے۔ آخرت میں اس کی ضرورت نہ ہوگی۔ تھے۔ سڑک کے دونوں طرف ساری زمین سبز چادر اور بڑھے اس لئے وہاں سرسبزی کو قائم رکھنے کے لئے غالباً فضائی ہوئے تھی۔ جگہ جگہ ابھرے ہوئے درخت قدرتی گل بوٹے بارشوں کا انتظام ختم یا محدود کر دیا جائے گا۔ اور زیر زمین کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ کھلے آسمان کا منظر اندر اس میں آبی اہتمام کو زیادہ کامل بنا دیا جائے گا۔ شاید یہی وجہ بادلوں کی حسین ٹکڑیاں آفاقی حسن کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ہے کہ قرآن میں جگہ جگہ کہا گیا ہے کہ جنت میں سرسبز باغا " یہ شاداب من کس قدر لذت بخش ہے"، میں نے ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (جنت تجری سوچا۔ مگر وہ اپنے اندر تلخیاں بھی لئے ہوئے ہے۔ ہر سال من تحتہا الانہاء) گویا جنت میں آب رسانی کا نظام جب بارش ہوتی ہے تو زمین پر سرسبزی اور شادابی کا ایک تحق زمینی ہوگا نہ کہ بالائے زمینی۔ اتھاہ حسن آگ آتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ وہ کیچڑ اور سیلا گنگاپور میں تقریبا چھ ہزار مسلمان ہیں اور آٹھ بھی لاتا ہے۔ مکانات گرتے ہیں۔ فصلیں تباہ ہوتی ہیں۔ مسجدیں ہیں، یہاں ایک رات گزری تیلیوں والی مسجد بارش میں بھیگنے سے کتنی چیزیں خراب ہو جاتی ہیں۔ میں فجر کی نماز کے بعد چند احادیث کی روشنی میں آخرت مچھر مکھی، کیڑے مکوڑے وغیرہ طرح طرح کے مسائل پیدا کی طرف توجہ دلائی گئی۔ انسان اپنے دنیا کے گھر کو بہتر ہو تر میں دیا بنانے میں مصروف رہتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ زندگی سرسبز درخت قدرت کی اتنی حسین نعمت ہیں کہ سے زیادہ موت سے قریب ہے۔ کسی بھی وقت خدا کا فیصلہ آخرت میں بننے والی بے پایاں نعمتوں کی دنیا کا نام ہی جنت آگر اس کے گھر دو ندے کو منتشر کر سکتا ہے۔ اس کے بعد (باغ) رکھ دیا گیا۔ انسان کی حسین ترین تمنا ہمیشہ یہ رہی نہ وہ ہوگا نہ اس کی بنائی ہوئی دنیا جس کے بل پر وہ ہے کہ سرسبز درختوں کے جھرمٹ میں عمدہ رہائش گاہ گھمنڈ کرتا تھا۔

(مساكن طيبة في جنات عدن) اسے حاصل ہو۔ زمین پر ۹ اگست کی صبح کو ہم اگلے سفر کے لئے گنگاپور سرسبزی کا انحصار زیر زمین آبی اہتمام کے ساتھ بڑی اسٹیشن پر گاڑی کا انتظار کر رہے تھے۔ ساڑھے آٹھ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page