عزت و ذلت کا معیار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲
عزت و ذلت کا معیار
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص سامنے سے گزرا۔ اس کا عمدہ لباس اور اس کا شان دار جسم بتا رہا تھا کہ یہ بستی کا صاحب حیثیت آدمی ہے۔ آپ نے حاضرین سے کہا: اس شخص کے بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے۔ کسی نے جواب دیا، یا رسول اللہ، یہ یہاں کے شریف لوگوں میں سے ہے۔ خدا کی قسم وہ اس قابل ہے کہ اگر کسی گھر میں نکاح کا پیغام دے تو قبول کیا جائے، کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش مانی جائے۔
آپ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک اور شخص سامنے سے گزرا۔ آپ نے دوبارہ حاضرین سے پوچھا، اس کے بارے میں کیا رائے ہے۔ کسی نے کہا، یار سول اللہ یہ ایک غریب مسلمان ہے۔ کہیں نکاح کا پیغام دے تو قبول نہ کیا جائے، کہیں سفارش کرے تو اس کی سفارش سنی نہ جائے ۔ بات کرے تو کوئی اس کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: "پہلی قسم کے آدمیوں سے اگر ساری زمین بھر جائے تو خدا کی نظر میں ایسا ایک شخص ان سے بہتر ہو گا،، فہرست جب برائی کو نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جائے ۔ ۳ حکمت کی باتیں ۔ ۷ موت کے اس پار۔ ۸ قرآن کو سمجھنے کے لئے۔ ۱۸ ترجمہ کی غلطی۔ ۱۹ الاسلام پر اخبار بلٹز کا تبصرہ۔ ۲۱ جب لائق کا معیار خوشامد ہو جائے ۔ ۲۲ فطرت کو اس کی تلاش کا جواب مل گیا ۔ ۲۳ عضویاتی ارتقاء کا نظریہ ۔ ۲۴ یہ ایک خدائی منصوبہ تھا۔ ۲۶ اسلام ایک عظیم جدوجہد ۲۸ گلاب کی سات سوتنیں ۴۳ المركز الاسلامی : ایک تعارف ۴۴ یہاں سرخ نشان اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی خریداری کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ امید ہے کہ الرسالہ کو آپ نے اپنے لئے مفید پایا ہو گا۔ اور آئندہ بھی اس کا مطالعہ پسند فرمائیں گے۔ براہ کرم سالانہ زر تعاون بذریعہ منی آرڈر روانہ فرمائیں تاکہ الرسالہ آپ کے نام جاری رکھا جاسکے منیجر ماہنامہ الرسالہ جمعیۃ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ ۔ دہلی ۶
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues