Al-Risala · October 1977 · page 4

جب برائی ک نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جائے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴

کی لغزش اُس کے اندر اِس احساسِ عبدیت کو ابھارنے کا سبب بن جائے تو وہ خدا کی نظر میں اتنا محبوب ہو جاتی ہے کہ وہ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے بندے کی اس لغزش کو اس کے اعمال نامہ میں حسنات کے خانہ میں لکھ دو۔ کیونکہ وہ میرے بندے سے قریب لے آئی ہے۔ اس کے برعکس جو نیکی آدمی کے اندر فخر کا احساس پیدا کرے، اس کے متعلق اندیشہ ہے کہ وہ سیئات کے خانہ میں نہ لکھ دی جائے۔ کیونکہ وہ بندے کو خدا سے دور کرنے کا سبب بنی۔

غلطیاں ہر ایک سے سرزد ہوتی ہیں۔ مومن سے بھی غیر مومن سے بھی۔ مگر جس کو حقیقی معنوں میں عبدیت کا مقام حاصل ہوتا ہے، اس سے جب کوئی لغزش ہو جاتی ہے تو وہ فوراً چونک اٹھتا ہے۔ اس کا احساس گنہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دگنی شدت کے ساتھ اپنے رب کی طرف دوڑے۔ اس کی غلطی اس کوئی نئی اًل ترقی کی ایمانی کیفیات سے لبریز کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اللہ سے خوف و محبت کا نیا طوفان اس کے اندر امڈ آتا ہے۔ اللہ کی طرف رجوع، جو تمام عبادات کی روح ہے، اس کے اندر پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر پیدا ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ گناہ جو اپنے بعد خشیت اور تضرع کے آنسو لے آئے، وہ نہ صرف گناہ کی سیاہی کو دھو دیتا ہے، بلکہ خود گناہ کو نیکی کے خانہ میں ڈال دیتا ہے۔ کیونکہ نتیجہ اس نے جو چیز پیدا کی، وہ وہی تھی جو تمام نیکیوں کا اصل مقصود ہے۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جن کے اندر عبدیت کا احساس بیدار نہ ہو اور جن کا حال یہ ہو کہ گناہ کرنے کے بعد بھی شرمندگی اور گناہ گاری کا جذبہ ان کے اندر نہ ابھرے۔ ایسے لوگ غلطیوں کے اندھیرے میں گم رہتے ہیں۔ ان کی لغزشیں ان کو عجز اور انابت کی خوراک نہیں دیتیں بلکہ ان کی قساوت کو بڑھاتی رہتی ہیں وہ ہر گناہ کے بعد اگلے گناہ کے لئے کچھ اور جری ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انھوں نے اپنی باگ شیطان کے ہاتھ میں دے دی ہے، اور وہ جدھر چاہتا ہے، انھیں کھینچے لئے پھرتا ہے :

اِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُم طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں، جب شیطان کا کوئی گروہ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ O وَاِخْوَانُهُمْ انھیں چھوتا ہے تو وہ چونک جاتے ہیں۔ پھر ان کو سوجھ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَى ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ O جاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں، وہ ان کو اعراف - ۲۰۲ گمراہی میں کھینچتے رہتے ہیں، پھر کمی نہیں کرتے۔

مومن کی سیئات کو حسنات سے بدل دینے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اجتماعیات سے متعلق ہے۔ یہ اہل ایمان کے ساتھ اللہ کا وہ خاص معاملہ ہے جب کہ وہ ان کے ناموافق حالات (DISADVANTAGE) کو موافق حالات (ADVANTAGE) میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ مدد چونکہ ایک اعتبار سے دنیوی ہے، اس لئے، پہلی قسم کی مدد کے برعکس، وہ بعض اوقات غیر اہل ایمان کے حصہ میں بھی آجاتی ہے۔ تاہم دونوں گروہوں میں ایک فرق ہے۔ جہاں تک خدا کے مومن بندوں کا تعلق ہے، ان کے لئے اس قسم کی مدد کی یقینی ضمانت ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب یہ مدد انھیں مخالفینِ اسلام کے مقابلہ میں درکار ہو۔ جب کہ غیر اہل ایمان کے لئے اس طرح کی کوئی ضمانت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page