جب برائی ک نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جائے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۵
اسلام کی تاریخ اس قسم کی مدد سے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔
۱۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں، مکہ میں مسلمانوں کے حالات اتنے سخت ہوگئے کہ ان کے لئے اس کے سوا کوئی صورت نہ رہی کہ اپنا وطن چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔ انھوں نے حبش کا انتخاب کیا جو عرب کی سرحد پر تھا اور اس وقت وہاں ایک عیسائی بادشاہ (نجاشی) حکومت کرتا تھا جس کی نیک نفسی مشہور تھی۔ ۶۱۵ء میں پندرہ آدمی جدہ پہنچے اور کشتیوں کے سفر کر کے حبش کے ساحل پر اتر گئے۔ دوسری بار ۶۱۶ء میں ایک سو مسلمانوں کا قافلہ حبش گیا۔
گھر بار، جائداد، اعزہ اقربا کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں جانا بڑا ناپسندیدہ واقعہ تھا۔ مگر اس کے اندر اللہ تعالی نے خیر کی صورت پیدا کر دی مسلمانوں کا حبش پہنچنا، سمندر پار کے ایک ملک میں اسلام کو موضوع بحث بنانے کا سبب بن گیا۔ پیغمبر اسلام کی بعثت اور آپ کی دعوت کی خبریں حبش میں پھیلنے لگیں۔ قریش کے ایک مخالفانہ وفد کی آمد کی وجہ سے مسلمانوں کے سردار جعفر بن ابی طالب کو موقع ملا کہ وہ شاہی دربار میں اسلام کی دعوت پر مفصل تقریر کر سکیں ۔ ان واقعات کا نتیجہ یہ ہوا کہ حبش سے ۴۰ عیسائی علماء کا وفد تحقیق حال کے لئے مکہ آیا۔ اور اسلام قبول کر کے اپنے ملک واپس ہوا۔ (قصص ۵۵-۵۲) اس طرح وہ تحریک جو ہجرت حبش سے پہلے مکہ کی ایک قصباتی تحریک کی حیثیت رکھتی تھی، ہجرت حبش کے بعد اس نے بین الالاقوامی تحریک کی حیثیت حاصل کرلی۔ ۲۔ اسلام جب عرب میں ظاہر ہوا ، اس وقت عرب کے شمال اور جنوب میں تمام علاقے اس زمانہ کی دو بڑی شہنشاہیتوں، ساسانی سلطنت اور باز نطینی سلطنت کے ماتحت تھے۔ یہ سلطنتیں اس کو برداشت نہ کر سکتی تھیں کہ قلب عرب میں کوئی آزاد اقتدار قائم ہو۔ اور ترقی کرے۔ ان کے اس جذبہ کا اظہار مختلف شکلوں میں ہوتا رہتا تھا۔ اسی کی ایک مثال ۹ھ کا وہ واقعہ ہے جب کہ بُصری کے گورنر شرحبیل بن عمرو غسانی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کو شام کے سرحدی قصبہ موتہ میں قتل کر دیا۔ یہ حارث بن عمیر از دی تھے جو آپ کی طرف سے دعوت اسلام کا مکتوب لے کر حاکم بُصری کے پاس گئے تھے۔
بین اقوامی روایت کے مطابق یہ واقعہ ایک ملک پر دوسرے ملک کی جارحیت کے ہم معنی تھا۔ یہ خبریں بھی آنے لگیں کہ شام کی طرف سے رومی فوجیں پیش قدمی کر کے مدینہ میں داخل ہونا چاہتی ہیں۔ پیغمبر اسلام نے اس کا فوجی جواب دینا ضروری سمجھا۔ آپ نے تین ہزار کا ایک لشکر تیار کیا اور زید بن حارثہ کو اس کا سردار مقرر کر کے شام کی طرف روانہ کیا۔ موتہ کے مقام پر مقابلہ ہوا۔ مگر مسلمانوں کے تین ہزار فوجیوں کے مقابلہ میں رومیوں کی ایک لاکھ سے بھی زیادہ فوج اکٹھا ہو گئی۔ حضرت زید سمیت تقریباً دو ہزار مسلمان شہید ہو گئے اور بقیہ فوج اس حال میں واپس ہوئی کہ مدینہ والوں نے ان کا استقبال یافتہ (اے بھاگنے والو) کہہ کر کیا۔
پیغمبر اسلام کی پوری ۲۳ سالہ نبوی زندگی میں یہ سب سے بڑا نقصان کا واقعہ تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے حیرت انگیز طور پر اس کے اندر سے ایک عظیم الشان خیر کا پہلو پیدا کر دیا۔ عرب کے مسلمان جن قبائل سے تعلق رکھتے تھے، وہ صدیوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues