جب برائی ک نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جائے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۶
سے آپس میں لڑتے چلے آرہے تھے، جنگ ان کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی ۔ شدید اندیشہ تھا کہ اپنی قوتوں کے اظہار کا کوئی میدان نہ پا کر وہ دوبارہ آپس میں لڑنے لگیں غزوہ موتہ کے حادثہ نے اس کا بہترین حل فراہم کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے دوبارہ ایک عظیم ترفوج ترتیب دی اور اس کا سالار اسامہ بن زید کو بنایا جن کے دل میں رومیوں سے انتقام کا شدید جذبہ بھرا ہوا تھا، کیونکہ انھوں نے آپ کے والد زید بن حارثہ کو قتل کیا تھا۔
اس طرح پیغمبر اسلام کو موقع ملا کہ اپنے آخری ایام میں عربوں کو رومی شہنشاہیت سے متصادم کر کے ان کی جنگجو فطرت کے لئے عمل کا ایک میدان فراہم کردیں ۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ وہ لوگ، اپنے ہم وطنوں کی قتل و غارتگری کے سوا اور کچھ نہ جانتے تھے، انھوں نے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک پوری دنیا میں اسلام کا اقتدار قائم کر دیا۔ ۳۔ اسی قسم کی ایک مثال تیرہویں صدی عیسوی میں مسلم دنیا پر مغلوں اور تاتاریوں کا حملہ بھی ہے ۔ ان وحشی قبائل نے مشرق کی جانب سے عالم اسلام پر حملہ کیا اور اس کے بڑے حصہ کو تاراج کر ڈالا۔ ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کو مکمل شکست ہوئی ۔ یہ سب سے بڑی سیاسی آفت تھی جو مسلمانوں کی پوری تاریخ میں ان کے اوپر نازل ہوئی۔ مگر اس کے اندر سے حیرت انگیز طور پر ایک نیا امکان پیدا ہو گیا ۔ فتح نے تاتاریوں کے انتقامی جذبہ کو ختم کر دیا۔ اب وہ نفسیاتی طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ مفتوح کے مذہب و عقائد پر بے لاگ رائے قائم کر سکیں مسلمانوں سے اختلاط نے ان کو ایک صحیح آسمانی مذہب سے واقف کرایا جو اب تک مذہب کے نام سے جاہلانہ اوہام پرستی کے سوا اور کچھ نہ جانتے تھے۔ انھیں نظر آیا کہ اسلام ایک سچا دین ہے اور اس میں خود ان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی شکست پر ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ تمام تاتاری مسلمان ہو گئے ۔
اس فتح کا یہی فائدہ نہیں ہوا کہ وہ تمام مسجدیں جن کو ہلاکو نے سمر قند سے حلب تک اپنے راستہ میں تباہ کی تھیں، اس کے پوتوں نے دوبارہ ان کی تعمیر کی اور ان کی چھتوں کے نیچے خدائے واحد کے آگے سجدہ کیا، اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عرب اور ایرانی قو میں جواب تک اسلام کی علم برداری کر رہی تھیں، عیش اور حکمرانی نے انھیں کمزور کر دیا تھا ۔ اب ایک تازہ دم گروہ کی ضرورت تھی جو اسلام کی پاسبان بنے ۔ مغل اور تاتاری، جو در اصل وحشی قبائل تھے، ان صلاحیتوں سے بھر پور تھے ۔ انھوں نے اسلام قبول کر کے اسلام کا علم اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اس کے بعد چھ سو برس تک اسلام کے طاقتور محافظ بنے رہے ۔
اسلام کی تاریخ میں اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جب کہ ہمارا رب ہمارے ناموافق حالات کو ہمارے لئے موافق بناتا رہا۔ یہ تاریخ آج بھی دہرائی جاسکتی ہے بشر طیکہ ہم اپنی طرف سے استحقاق کی وہ شرط پوری کرنے کے لئے تیار ہوں جس کا پورا کرنا خدا کی سنت کے مطابق ضروری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues