موت کے اُس پار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۸
موت کے اُس پار
ستارے اور سیارے کبھی اپنے مقررہ راستے سے نہیں بھٹکتے۔ درختوں اور پہاڑوں کے سامنے کبھی یہ مسئلہ نہیں آتا کہ وہ اپنی زندگی کے نظام کو کس طرح بہتر بنائیں، کسی جانور کو کبھی یہ سوال پریشان نہیں کرتا کہ وہ اپنی غیر حاصل شدہ تمناؤں کو کیسے پورا کرے۔ انسان کے سوا جتنی چیزیں اس کائنات میں ہیں، سب ویسی ہی ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہئے۔ معلوم دنیا میں صرف انسان ہے جو اس احساس سے دوچار ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے، اس کو حاصل نہیں کر سکتا اور نہ موجودہ دنیا میں کبھی اس کا حصول ممکن ہے ۔
ہمارے اور موجودہ دنیا کے درمیان اس تضاد کو ہمیشہ لوگوں نے محسوس کیا ہے عام انسان صرف یہ سوچتا ہے کہ وہ بیماری، حادثہ، بڑھاپا، موت سے آزاد زندگی پانا چاہتا ہے مگر وہ اسے پا نہیں سکتا۔ علماء اور مفکرین زیادہ گہرائی تک جاتے ہیں اور زیادہ دور رس قسم کے ناموافق پہلوؤں کا انکشاف کرتے ہیں جو انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان فیصلہ کن طور پر حائل ہیں ۔
انسان خلاؤں کو ناپتا ہے اور اقتدار کے خواب دیکھتا ہے۔ مگر وہ کس قدر عاجز اور حقیر ہے، اس کو ایک مثال میں دیکھئے ۔ زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں، اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جا سکتا ہے جو طول و عرض اور بلندی میں ایک میل ہو۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو وہ پانی کی گہرائی میں پہنچ کر گم ہو جائے گا ۔ صدیاں گزر جائیں گی مگر نسل انسانی دوبارہ زمین پر چلتی پھرتی دکھائی نہ دے گی۔ دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں انسان کی قسم کی کوئی مخلوق آباد تھی ۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے ، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا ۔ کرہ ارض اپنے محور پر بدستور گھومتا رہے گا۔ کائنات کی لا محدود پہنائیوں میں پھیلی ہوئی بے شمار دنیا ئیں اتنے بڑے حادثہ کو ایک معمولی واقعہ سے زیادہ اہمیت نہ دیں گی ۔ مدتوں کے بعد ایک اونچا سامٹی کا ڈھیر زبانِ حال سے بتائے گا کہ یہ نسل انسانی کی قبر ہے جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی ۔
سر جیمز جینز (۱۹۷۴ء ۔ ۱۸۸۰ء) کائنات کی بے پناہ وسعت کے مقابلے میں انسان اور اس کے وطن (زمین) کی معمولی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
" ریت کے ذرہ کے ایک خورد بینی ٹکڑے پر کھڑے ہو کر ہم کائنات کی فطرت اور اس کے مقصد کو معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ زمان و مکان کے اندر ہمارے وطن (زمین) کو گھیرے ہوئے ہے۔ ہمارا پہلا تاثر کچھ دہشت ناک قسم کا ہوتا ہے۔ ہم کائنات کو دہشتناک پاتے ہیں اس کے وسیع ناقابل فہم فاصلوں کی وجہ سے، دہشت ناک اس کے لامعلوم حد تک لمبے پھیلے ہوئے وقت کی وجہ سے جس کے مقابلے میں انسانی تاریخ محض پلک جھپکانے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues