موت کے اُس پار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۹
کے بقدر معلوم ہوتی ہے ، دہشت ناک ہماری انتہا درجہ کی تنہائی کی وجہ سے ، اور خلا میں ہمارے وطن کے مادی طور پر بالکل بے حقیقت ہونے کی وجہ سے ۔ ساری دنیا کے سمندروں میں پائے جانے والے ریت کے ذروں میں سے ایک ذرہ کا دس لاکھواں حصہ۔ مگر ان سب سے بڑھ کر کائنات کو ہم اس لئے دہشت ناک پاتے ہیں کہ وہ ہماری جیسی ایک زندگی کے معاملہ میں غیر جانب دار ہے : جذبات ، حوصلے ، کامیابیاں ، آرٹ اور مذہب ، سب اس کے منصوبے میں اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ شاید ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری جیسی زندگی کی دشمن ہے کیوں کہ خالی خلا کا بیشتر حصہ اس قدر سرد ہے کہ تمام زندگی اس کے اندر منجمد ہو جائے گی۔ خلا کے اندر مادہ کا بیشتر حصہ اس قدر گرم ہے کہ اس کے اوپر زندگی کا وجود نا ممکن ہے۔ خلا خم دار ہے اور فلکیاتی اجسام پر مسلسل مختلف قسم کی ریڈیائی بمباری ہوتی رہتی ہے، جن میں سے اکثر غالباً زندگی کے لئے مخالف یا تباہ کن ہیں۔ اس قسم کی ایک دنیا میں ہم ٹھیک پڑے ہیں ، اگر غلطی سے نہیں تو کم از کم اس چیز کے نتیجہ میں جس کو اتفاق کہا جا سکتا ہے۔ (۳) سیاراتی نظام (جس میں ہماری زمین ہے) انتہائی نادر خلائی واقعہ ہے۔ سیاراتی نظام کا اس قدر نادر ہونا بے حداہم ہے۔ کیونکہ زندگی کی جس قسم سے ہم زمین پر واقف ہیں ، وہ زمین ہی جیسے کسی سیارہ پر وجود میں آسکتی ہے۔ اس کو اپنے ظہور کے لئے موافق طبعی حالات درکار ہیں جن میں سب سے اہم وہ پتھر بچہ ہے جس میں اشیاء رقیق شکل میں باقی رہ سکیں۔ (۴)
ان وجوہ سے یہ ناقابل یقین معلوم ہوتا ہے کہ کائنات ابتدائی طور پر ہماری جیسی زندگی کے لئے بنائی گئی ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو یقینی طور پر ہم میکانزم کے حجم اور پیداوار کی مقدار میں زیادہ بہتر تناسب کی توقع کر سکتے تھے۔ کم از کم پہلی نظر میں زندگی انتہائی غیر اہم ضمنی پیداوار دکھائی دیتی ہے۔ ہم زندہ لوگ شارع عام سے کچھ ہٹے ہوئے ہیں۔ WE LIVING THINGS ARE SOMHOW OFF THE MAIN LINE (P.5)
سائنس نے اب تک جو معلومات دی ہیں، ان کے مطابق ہم نہایت تعجب انگیز طور پر وجود میں آئے ہیں۔ اور ہماری حیرانی میں صرف اضافہ ہوتا ہے جب ہم اپنی ابتدا کے مسئلہ سے آگے بڑھ کر اپنے وجود کی معنویت کو سمجھنا چاہتے ہیں یا یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ قسمت نے مستقبل میں ہماری نسل کے لئے کیا چیز ذخیرہ کر رکھی ہے (۱۰) فزکس اور فلکیات دونوں ایک ہی کہانی بتاتے ہیں۔ وہ یہ کہ کائنات کا صرف ایک ہی انجام ہو سکتا ہے۔ اور وہ ہے حرارتی موت (HEAT DEATH)۔ اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ اس آخری انجام تک پہنچنے کا راستہ کیا ہوگا۔ کائناتی موت کے سوا اس سفر کا دوسرا کوئی انجام نہیں ہو سکتا :
END OF THE JOURNEY CANNOT BE OTHER THAN UNIVERSAL DEATH (P.11)
پھر کیا ایسا ہے کہ زندگی محض اتفاق سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک آئی ہے جو واضح طور پر زندگی کے کے لئے نہیں بنائی گئی تھی۔ اور جو تمام مظاہر کے مطابق یا تو مکمل طور پر غیر جانب دار ہے یا قطعی طور پر اس کے مخالف ۔ ایک ذرے کے محض ایک ٹکڑے پر ہمیں اس وقت تک چمٹے رہنا ہے جب کہ ہم منجمد ہو جائیں، اپنے مختصر
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues