ترجمہ کی غلطی
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۹
غیر ضروری شرائط ہیں۔ ان کا غیر متعلق ہونا اس سے واضح ہے کہ ان میں سے اکثر علم وہ ہیں جن سے صحابہ بالکل نا واقف تھے ، وہ بعد کے دور میں بنائے گئے ۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن فہمی کے لئے صرف دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک ایمان ، دوسرے عربی زبان ۔ اگر آدمی کوئی الواقع ایمانی شعور حاصل ہو اور وہ عربی زبان سے بخوبی واقف ہو تو یقیناً اللہ کی مدد سے وہ کلام الہیٰ کو سمجھ لے گا اس کے بعد کسی اور علم کی اس کو ضرورت نہیں۔ ایمان محض کلمہ کے الفاظ کو دہرانا نہیں ہے ، ایمان دراصل فطرۃ اللہ کو پالینے کا نام ہے ، وہ فطرت جس پر سارے انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے۔ ایمان ، مجمل شعور کے طور پر ، آدمی کو خالق اور مخلوق کے تمام رموز سے آشنا کر دیتا ہے۔ اس کے بعد اگر وہ عربی زبان جانتا ہو اور قرآن کو پڑھے تو وہ اپنے آپ کو ملہم کے مقام پر کھڑا ہوا پاتا ہے۔ اس کو محسوس ہونے لگتا ہے گویا کہ خدا براہ راست اس سے مخاطب ہو گیا ہے۔ اس مقام کو پہنچنے کے بعد انسانی ساخت کے دوسرے علوم قرآن اور بندہ کے درمیان ایک قسم کی رکاوٹ بن جاتے ہیں ، کجا کہ وہ قرآن کے معانی کو آدمی کے اوپر کھولنے کا ذریعہ بنیں ۔
ترجمہ کی غلطی
علامہ سخاوی کی ایک کتاب ہے ”القول البدیع“ کے آگے تھے ۔ حضرت علی نے مجھ کو بلایا اور فرمایا اٹھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں ۔ میں اٹھا اور حضرت کے دونوں آنکھوں کے درمیان چوما۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایک روٹی عنایت في الصلاۃ علی الحبیب الشفیع ،،۔ اس میں اٹھوں نے شیخ ابوالخیر اقطع کا ایک قصہ نقل کیا ہے۔ اس کا ترجمہ ایک اردو کتاب میں ان لفظوں میں کیا گیا ہے : " شیخ ابوالخیر کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں آیا۔ وہاں پانچ دن قیام کیا۔ مجھ کو کچھ ذوق و لطف حاصل نہ ہوا۔ میں قبر شریف کے پاس حاضر ہوا، اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو سلام کیا۔ اور ع کیا۔ اے رسول اللہ، آج میں آپ کا مہمان ہوں۔ پھر وہاں سے ہٹ کر منبر کے پیچھے سو رہا۔ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ حضرت ابوبکر آپ کے داہنی طرف اور حضرت عمر آپ کے بائیں طرف تھے۔ حضرت علی رض آپ فرمائی۔ میں نے آدھی کھائی۔ اور جاگا تو آدھی میرے ہاتھ میں تھی ۔
اس وقت ہمیں اس قصہ کی سند اور اس کی صداقت سے کوئی بحث نہیں ۔ اس کو ہم نے صرف ایک ادبی مقصد کے تحت نقل کیا ہے ۔ قصہ کا یہ جملہ مجھ کو کچھ ذوق و لطف حاصل نہ ہوا ، ترجمہ کی غلطی ہے۔ اصل کتاب کے الفاظ یہ ہیں : اَقَمْتُ خَمْسَةَ اَيَّامٍ مَا ذُقْتُ ذَوَاقاً۔ اس فقرہ کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا : میں پانچ دن رہا۔ مجھے ان دنوں میں کوئی چیز چکھنے کو بھی نہیں ملی۔ اس قسم کی غلطیاں اردو ترجموں میں بہت عام ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues