Al-Risala · October 1977 · page 18

قرآن سمجھنے کے لئے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸

قرآن سمجھنے کے لئے

علامہ زمخشری نے لکھا ہے کہ ایک شخص کے سامنے قرآن کی یہ آیت پڑھی گئی : يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ جس دن ہم بلائیں گے تمام آدمیوں کو ان کے مقتدا کے ساتھ۔ اس آدمی نے آیت کا مطلب یہ نکالا : جس دن ہم بلائیں گے سب کو ان کی ماؤں کے ساتھ۔ امام کا لفظ جو مفرد تھا، اس کو ام (ماں) کی جمع سمجھ لیا گیا۔ حالاں کہ وہ شخص اگر قواعد صرف سے واقف ہوتا تو اس کو معلوم ہو جاتا کہ اُم کی جمع امام فہمیں آتی۔ اسی طرح مثلاً لفظ "مسح" دو مادوں سے مشتق ہو سکتا ہے۔ اور دونوں کے الگ الگ معنی ہیں۔ اس کا اشتقاق مسح سے ہو تو اس کے معنی چھونے اور تر ہاتھ کسی چیز پر پھیرنے کے ہوں گے۔ اور اگر مساحت سے ہو تو اس کے معنی پیمائش کے ہوں گے، وغیرہ انھیں وجوہ سے اہل فن نے قرآن کی تفسیر کے لئے پندرہ علوم پر مہارت ضروری بتائی ہے : ۱۔ لغت ، جس سے قرآن کے مفرد الفاظ کے معنی معلوم ہو سکیں ۔

۲۔ نحو ، یعنی اعراب کا علم، کیونکہ عربی زبان میں زبر زیر کے فرق سے معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔ ۳۔ صرف ، صیغوں کے اختلاف کو جاننا۔

۴۔ اشتقاق ، یعنی کون کس مادہ سے بنا ہے۔

۵۔ علم معانی ، جس سے کلام کی ترکیبیں معنی کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہیں۔ ۶۔ علم بیان، جس سے کلام کا ظہور و خفا، تشبیہہ و کنایہ معلوم ہوتا ہے ۔ ۷۔ علم بدیع ، جس سے کلام کی خوبیاں تعبیر کے اعتبار سے معلوم ہوتی ہیں ۔ ۸۔ علم قرأت، کیونکہ مختلف قرآتوں کی وجہ سے مختلف معنی معلوم ہوتے ہیں۔ ۹۔ علم عقائد ، تاکہ یہ معلوم ہو کہ کہاں ظاہر معنی مراد ہیں اور کہاں تاویل کی ضرورت ہے ۔ ۱۰۔ اصول فقہ، جس سے وجوہ استدلال و استنباط معلوم ہوتے ہیں ۔ ۱۱۔ اسباب نزول، کیونکہ شان نزول جاننے سے آیت کے معنی زیادہ واضح ہوتے ہیں۔ ۱۲۔ علم ناسخ ومنسوخ، تاکہ منسوخ شدہ احکام معمول بہا سے ممتاز ہو سکیں ۔ ۱۳۔ علم فقہ ، کیونکہ جزئیات کے احاطہ سے کلیات پہچانے جاتے ہیں۔ ۱۴۔ احادیث، یعنی وہ تفسیری روایات جو قرآن کی مجمل آیات کی تفسیر کرتی ہیں ۔ ۱۵۔ علم وہبی ، وہ علم خاص جس کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَرَثَهُ اللَّهُ عِلْمَ مَا لَمْ يَعْلَمُ بعض لوگوں نے قرآن نہی کے لئے اس سے کم یا اس سے زیادہ علوم بھی بیان کئے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page