Al-Risala · October 1977 · page 16

اخبار بلیٹز کا تبصرہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶

اخبار بلیٹز کا تبصرہ

بلیٹز (بمبئی) نے اپنی اشاعت ۱۰ ستمبر ۱۹۷۷ء میں ایک مفصل مضمون شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ”پرانے چراغ اور الاسلام “ " پرانے چراغ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی کتاب ہے اور ” الاسلام “ مولانا وحید الدین خاں کی مضمون کے شروع میں کہا گیا ہے کہ مسلم ممالک کو ” پٹرول “ کے ذریعہ جو اقتصادی قوت حاصل ہوئی ہے ، " اس کا احساس تو انہیں ہو گیا۔ لیکن یہ شعور بیدار ہونا باقی ہے کہ پٹرول کی نہیں، ذہنی خوراک اور روحانی تسکین کی بھوکی دنیا کو دینے کے لئے ان کے پاس کیا ہے ، اور وہ کیونکر صاف کر کے پیش کر دینا ہے ، اس کے لئے کتنی زیر دست مادی اور ذہنی تیاری کی ضرورت ہے۔ "

اس تمہید کے بعد لکھا ہے ” موضوع سخن ہے ، ہندوستان کے وہ علمائے اسلام اور ان کی تحریریں جو علمی دنیا میں اعتبار کا پایہ رکھتے ہیں۔ جو موجودہ دور کے مزاج شناس ہونے کے ساتھ ساتھ نسل حاضر سے محبت بھی رکھتے ہیں اور اسلام کا اصل جو ہر پیش کرنے کی اہلیت بھی۔ "

” پرانے چراغ “ میں فاضل مصنف کے وہ اٹھارہ مضامین شامل ہیں جو انھوں نے اپنی مختلف معاصر شخصیتوں پر ان کے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد لکھے۔ یہ مضامین جیسا کہ دیباچہ میں واضح کیا گیا ہے ، ان شخصیتوں کے سوانح حیات کے طور پر نہیں لکھے گئے یہ در حقیقت نقوش تاثرات کا ایک مجموعہ ہے ۔ “ اس سلسلہ میں ” پرانے چراغ “ پر تبصرہ کرنے کے اس قابل قدر تصنیف میں بے تکلف غور و فکر کی گمبھیر فضا موجود ہے بعد ملٹن نے ” الاسلام“ پر مفصل اظہار خیال کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:

” مگر بات یہاں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی کتاب ” پرانے چراغ “ پر تمام نہیں ہوتی۔ مولانا وحید الدین خاں کی تصنیف الاسلام کا مطالعہ دوسرے پہلو سے ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہاں ادعائیت کی جگہ استدلال ہے اور حقیقتوں کو تسلیم کر لینے کا حوصلہ ” دنیا کی امامت “ کرنے کی لگن پر غالب ہے۔ مولانا وحید الدین خاں بھی درجنوں باخبر عبہار مشرق کی طرح دری اور بورئے پر درس لے کر اٹھے اور عمر عزیز کے ۲۵ برس یوں گزارنے کے بعد، اور ۲۵ سال انھوں نے انگریزی زبان کی معرفت جدید علوم، خصوصاً فلسفہ اور تاریخ سے علم و خبر لینے میں صرف کئے ۔ اس کا جلوہ ان کی تصنیف ” الاسلام “ میں نظر آتا ہے۔ اس تصنیف کی روح بھی لفظ ” دعوت “ میں پوشیدہ ہے۔

اس علمی اور غور طلب مختصر تصنیف کو اول تا آخر طالب علمانہ پڑھنے بلکہ نچوڑنے کے بعد تین نکات ٹپکتے ہیں۔

(۱) دین کے اصل منشا کی طرف پرامن دعوت دی جائے (۲) وقت کا شاکلہ بدل چکا ہے (یہی لفظ شاکلہ پوری کتاب کا مرکزی لفظ ہے) دنیا ئے اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page