اخبار بلیٹز کا تبصرہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۲
کے بڑے علماء اور مجددین کو اس تبدیلی کا احساس ہی نہ ہوا۔ اور پاؤں تلے کی زمین نکل گئی ۔ شاکلہ سے مراد ذہنی ساخت ہے ، جسے ہم روح عصر یا وقت کی پکار کہہ سکتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ سائنس کی ترقی نے ذہنی ساخت کا پرانا سانچا توڑ دیا ہے ۔ آج حالات اسلام کی تبلیغ اور تصدیق کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔ " موجودہ زمانے میں الحاد کا شاکلہ توڑنے کے لئے بھی اسی قسم کی طویل اور عمیق جدوجہد درکار ہے ، اس کے بغیر آج کی دنیا میں اسلام کو اس کی جگہ نہیں دلائی جا سکتی ۔ " ص:۱۷۱ (۳) ہمیں اپنے زمانے کے علوم سے آگاہی اور مادی سروسامان سے پوری تیاری کے ساتھ ارباب اقتدار سے غیر ضروری تصادم مول لئے بغیر جدید معیار کا تبلیغی اور اصلاحی کام کرنا چاہئے ۔
مولانا الحاد کے جس شاکلہ سے لڑنے پر زور دیتے ہیں ، وہ ان کی منطق کا لازمی نتیجہ نہیں ۔ اس سے درگزر کر کے اس قابل قدر تصنیف " الاسلام " میں بے تکلف غورو فکر کی گمبھیر فضا موجود ہے خصوصاً اس کے ساتویں باب " موجودہ زمانے کی اسلامی تحریکیں " اور دسویں باب " جدید امکانات " میں "
جب لائق کا معیار خوشامد ہو جائے حال میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے : ALL THE PRIME MINISTER'S MEN اس کے مصنف مسٹر جناردن ٹھاکر ہیں۔ کتاب میں بڑے میں جانتا ہوں کہ سارا ملک اس وقت ہمارے ساتھ ہے" یہ کہہ کر انھوں نے رپورٹ کو رد کر دیا۔
دوسری بار کچھ اور لوگ چنے گئے ؛ اور ان کو تمام ریاستوں میں سیاسی جائزہ کے لئے بھیجا گیا۔ اس بار دلچسپ انکشافات کئے گئے ہیں۔ مثلاً بتایا گیا ہے کہ۔ ہر مارچ ۱۹۷۷ء کے الیکشن سے پہلے سابق وزیراعظم مسز اندرا گاندھی نے تین بار سرکاری آدمیوں کے ذریعہ معلوم کرایا کہ الیکشن کے سلسلہ میں عوام کا رجحان کیا ہے۔ پہلی رپورٹ ریسرچ اینڈ انالی سس ونگ نے پیش کی، جو ملک کی تمام ریاستوں کے جائزہ کے بعد تیار کی گئی تھی۔ شروع جنوری ۱۹۶۷ء میں مسٹر اوم مہتا (اسٹیٹ منسٹر وزارت داخلہ) نے یہ رپورٹ سابق وزیر اعظم کے صاحبزادے بھی رپورٹ ناموافق آئی اور سابق حکمران گروہ کی طرف سے بدستور اس کو غلط قرار دے کر رد کر دیا گیا۔ اب تیسری بار زیادہ ”لائق افراد‘‘ جائزہ کے لئے چنے گئے ۔ انھوں نے اپنی لیاقت کا ثبوت اس طرح دیا کہ چند ہی دن کے اندر رپورٹ پیش کر دی: "الیکشن کے لئے یہ بہترین موافق وقت ہے " چنانچہ فوراً الیکشن کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ معلوم ہے۔
تعریف کرنے والے کے مقابلہ میں وہ شخص کسی کا زیادہ مسٹر سنجے گاندھی کے سامنے رکھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ملک کی سیاسی فضا اس وقت مسٹر گاندھی کے حق میں سازگار نہیں ہے۔ مسٹر سنجے گاندھی اس کو دیکھتے ہی بگڑ گئے: "یہ لوگ کچھ نہیں جانتے۔ میں سارے ہندوستان میں گیا ہوں۔ بہرحال یہی ہے ہو۔ وت کرنے والا ہے۔ اگر چہ بہت موں ہیں جو اس کو جانتے ہوں ۔ اور کوئی مرتبہ پانے کے بعد تو آدمی سب سے زیادہ جس حقیقت سے بے خبر ہو جاتا ہے وہ یہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues