Al-Risala · October 1977 · page 29

”لائق شخص اور کامیاب نہ ہو، یہ جھوٹ ہے“

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹

اٹھتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔ غرض دشواریوں سے بھرا ہوا ایک راستہ ہے جس کو طے کر کے اس کو اپنے رب تک پہنچنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :۔

حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُجِبَتِ جہنم لذتوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور جنت تکلیفوں الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ (متفق علیہ) سے ڈھکی ہوئی ہے۔

اسلام کی حقیقت کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو اس کے لیے "قربانی" سے زیادہ موزوں اور کوئی لفظ نہیں ہو سکتا۔ اسلام دراصل ایک زبردست جدوجہد ہے‘ وہ قربانی کا ایک مسلسل عمل ہے جو ایمان لانے کے بعد سے آدمی کی موت تک جاری رہتا ہے۔ یہ سب سے پہلی قربانی آدمی اس وقت دیتا ہے جب وہ اپنے پسندیدہ خیالات اور قلبی رجحانات کو خیر باد کہہ کر دینِ حق کو قبول کرتا ہے ، اس کے بعد دوسری قربانی وہ ہے جو عمل کی دنیا میں دی جاتی ہے۔ اخلاق و معاملات اور معیشت و تمدن میں وہ ان طریقوں کو چھوڑ دیتا ہے جو خدا کو ناپسند ہیں اور ان طریقوں کو اختیار کر لیتا ہے جو خدا کو محبوب ہیں۔ پھر جب وہ ان دونوں مرحلوں کو پار کر لیتا ہے تو وہ امتحان کے اس آخری میدان میں پہنچ جاتا ہے جہاں نہ صرف حرام چیزیں بلکہ زندگی کے جائز اثاثے بھی چھوڑ دینے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ اپنی جان بھی قربان کر دینی پڑتی ہے۔ یہ جان کی قربانی اس سلسلہ امتحان کی تکمیل ہے اور عہد بندگی کو آخری طور پر ثابت کر دکھانا ہے جو ایمان لا کر آدمی نے اپنے رب سے کیا تھا۔ یہ تین دور جن سے گزر کر آدمی اپنے رب تک پہنچتا ہے اور اس کی رضا کا مستحق بنتا ہے، ان کو قرآن میں۔ ایمان۔ ہجرت اور جہاد۔ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرمایا:۔

الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي جو لوگ ایمان لائے، جنہوں نے ہجرت کی اور سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ اپنی جانوں اور مالوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیا دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ ان کے لیے خدا کے یہاں بڑا درجہ ہے اور یہی لوگ الْفَائِزُونَ ٥ (توبہ - ۲۰) دراصل کامیاب ہونے والے ہیں۔

اس آیت میں ایمان سے مراد ان حقائق کو تسلیم کرنا ہے جو قرآن میں تلقین کیے گئے ہیں، اور ہجرت سے مراد اس اعتراف اور اس کے تقاضوں کے خلاف جو کچھ ہے اس کو چھوڑ دینا اور جہاد اس کوشش اور جدوجہد کا نام ہے جو ایمان اور مہاجرت کی زندگی کو آخری حد تک باقی رکھنے کے لیے اس دنیا میں آدمی کرتا ہے۔ اس طرح یہ ایمان، ہجرت اور جہاد۔ ایک دوسرے سے الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سلسلہ سفر کی اگلی پچھلی منزلیں ہیں۔ یہ ایک ہی کیفیت کے مختلف ارتقائی مراحل ہیں جن کو ممیز کرنے کے لیے جدا عنوان دے دیا گیا ہے۔ نیز ہجرت اور جہاد کی کوئی متعین صورتیں نہیں ہیں۔ ایمان کی حقیقت، مختلف حالات میں مختلف صورتوں میں ظہور کرتی ہے۔ کسی کے لیے ہجرت ترک وطن کے ہم معنی ہوتی ہے؛ کسی کے لیے صرف یہ کہ وہ اپنے اندر کے برے رجحانات کو چھوڑ دے۔ کسی کا جہاد اس کو بیرونی قوتوں سے ٹکراؤ تک لے جاتا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page