”لائق شخص اور کامیاب نہ ہو، یہ جھوٹ ہے“
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۰
ہے کسی کا جہاد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی داخلی ترغیبات کا مقابلہ کر کے اس کو زیر کرے۔ ایمان سب سے پہلے ایمان کو لیجیے، یہ اس عظیم امتحانی مہم میں شریک ہونے کا فیصلہ کرنا ہے جس کی ابتدا زبان کے اقرار سے ہوتی ہے اور جس کی انتہا یہ ہے کہ اسی پر قائم رہتے ہوئے آدمی اپنی جان دے دے یہ وہ عہد ہے جو بندہ اپنے خدا سے اس بات کے لیے کرتا ہے کہ وہ ساری عمر اس کا وفادار رہے گا۔ ایمان اس کیفیت کا نام ہے جو حقیقت کے صحیح اور مخلصانہ شعور سے پیدا ہوتی ہے۔ جب آدمی اس حیرت انگیز کائنات کے پیچھے ایک لامحدود قوت کا مشاہدہ کر لیتا ہے جب وہ خدا کے رسول کو تسلیم کر کے اس کے تمام فیصلوں پر راضی ہو جاتا ہے، جب اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ تخلیق کا یہ عظیم منصوبہ بے مقصد نہیں ہے بلکہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جب ماضی اور مستقبل کے تمام انسانوں کو جمع کر کے ان کا حساب لیا جائے، تو اسی کیفیت کے مجموعہ کو ہم ایمان سے تعبیر کرتے ہیں۔
ایمان کی اصل روح اعتماد کرنا ہے۔ یہ اعتماد ایک ایسی ہستی کے بارے میں ہوتا ہے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے۔ اس لیے اس میں یقین کا مفہوم پیدا ہوا۔ اسی طرح خدا کو اس کی تمام صفات کے ساتھ ماننے کے لازم معنی یہ ہیں کہ اس کے غضب سے ڈرا جائے اور اس کے عذاب سے بچنے کی فکر کی جائے اس لیے اس کے ساتھ تقویٰ اور خوف کا ہونا ضروری ہے۔ اس طرح اگر قرآن کے تصور ایمان کی تشریح کے لیے تین الفاظ۔ یقین، اعتماد اور خوف۔ کو اکٹھا کر دیں تو ہم اس کی روح کے بالکل قریب پہنچ جاتے ہیں۔ ایمان اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے خدا اور اس کے رسول پر اس کلی اعتماد کا نام ہے جو یقین کامل سے پیدا ہوتا ہے، اور خدا سے اس خوف کا نام ہے جو آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ کسی پولیس اور فوج کے تسلط کے بغیر خود سے اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کر لے۔
یقین جو ایمان کا پہلا جزو ہے، یہ خارج سے درآمد کی ہوئی کسی چیز کا نام نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کا زندہ شعور ہے جو خود انسان کی فطرت میں چھپی ہوئی ہے۔ انسان کائنات پر غور کرتا ہے۔ رسول کی تعلیمات کو دیکھتا ہے اور اپنے اندر سے اٹھنے والی آواز پر کان لگاتا ہے تو یہ تینوں چیزیں بالکل ایک معلوم ہوتی ہیں۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی ایک ہی پیغام ہے جو ایک وقت میں تین مختلف مقامات سے نشر ہو رہا ہے۔ خدا کا رسول جس حقیقت کی خبر دیتا ہے، کائنات پوری کی پوری بالکل اس کی ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے اور انسان کی اندرونی آواز ہمہ تن اس کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ کتاب الہی میں جو کچھ پڑھتا ہے زمین و آسمان کے اندر اسی کو دیکھتا ہے اور جو کچھ پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے اس کی فطرت اس کو اس طرح قبول کر لیتی ہے جیسے کسی خانے میں بالکل اسی سائز کی چیز رکھ دی گئی ہو۔ مگر یقین کی یہ کیفیت کسی کو خود بخود حاصل نہیں ہوتی۔ جس طرح فطرت کی ہر صلاحیت اسی وقت بروئے کار آتی ہے جب اس کو نشوونما دے کر
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues