”لائق شخص اور کامیاب نہ ہو، یہ جھوٹ ہے“
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۱
اجاگراجائے، کائنات کا ہر راز اسیی وقت انسان کے اوپر بے نقاب ہوتا ہے جب اس کی تلاش میں وہ اپنے آپ کو گم کر چکا ہو۔ اور کسی کتاب کے مضامین اسی وقت آدمی پر کھلتے ہیں اور اسے فائدہ پہنچاتے ہیں جب اس کا گہرا مطالعہ کر کے اس کے مطالب کو اخذ کیا جائے۔ ٹھیک اسی طرح یہ یقین بھی آدمی کو اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اپنی قوت ارادی کو اس کے لیے کام میں لائے۔ یہ اگرچہ کائنات کی واضح ترین حقیقت ہے مگر اس دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ آدمی کو وہی کچھ ملے جس کے لیے اس نے جدوجہد کی۔
ایمان کا دوسرا جزو اعتماد ہے۔ اپنی ذات اور کائنات کا مطالعہ جہاں آدمی کو ایک طرف یہ بتاتا ہے کہ ایک عظیم خالق اور کارساز ہے جو اس کارخانے کے تمام واقعات کا حقیقی سبب ہے۔ اس کے ساتھ اور عین اسی وقت اس کو دو اور باتوں کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ایک اپنی انتہائی بے چارگی کا اور دوسرے خدا کے بے پایاں احسانات کا۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے وجود کے لیے بے شمار چیزوں کا قرضہ مند ہے۔ مگر وہ کسی ایک چیز کو بھی خود سے نہیں بنا سکتا۔ وہ ایک کمزور بچہ کی شکل میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ وہ ایک ایسی زمین کے اوپر کھڑا ہے جو فضا کے اندر معلق ہے جس کے توازن میں معمولی بگاڑ بھی آ جائے تو اس کو تباہ کر دینے کے لیے کافی ہے، وہ اپنے کو ایک ایسی عظیم کائنات کے اندر گھرا ہوا پاتا ہے جس پر اسے کوئی اختیار نہیں۔ ان حالات میں اس کو اپنا وجود بالکل بے بس اور حقیر معلوم ہونے لگتا ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھتا ہے کہ وہ سب کچھ جس کی اسے ضرورت تھی، اس کے لیے مہیا کر دیا گیا ہے۔ اس کو ایسا جسم دیا گیا ہے جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو بولتا ہے، جو سوچتا ہے، اس کی قوتوں کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خود بخود چلنے والی مشین کی طرح مسلسل کام کر رہا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ زمین و آسمان کی ساری قوتیں پوری ہم آہنگی کے ساتھ اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ اس کو اپنا وجود مجسم احسان نظر آنے لگتا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ جذبہ شکر امنڈتا ہے اور وہ احسان مندی کے جذبہ سے لبریز ہو جاتا ہے۔ یہ واقعہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ اس ہستی کو اپنا سب کچھ قرار دے جس نے یہ سارا انتظام اس کے لیے کیا ہے پہلی چیز اس کو اپنی مکمل بے بسی کا یقین دلاتی ہے اس کو شدید احساس ہوتا ہے کہ کوئی بلند تر قوت ہو جو اس کی دستگیری کرے۔ اور دوسرا احساس اس کی اس طلب کا جواب بن کر سامنے آتا ہے۔ جو مطالعہ اس کو اپنے اندر خلا کا احساس دلاتا ہے وہی مطالعہ بیک وقت اس خلا کو پر بھی کر دیتا ہے۔ ایمان کا تیسرا جزو ”خوف“ ہے۔ یہ خوف ایمان کے ابتدائی دواجزاء ۔ یقین اور اعتماد سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کا لازمی نتیجہ اور اس کی تکمیل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کو دیکھتا ہے جو عدل و حکمت کا خزانہ ہے۔ دوسری طرف کائنات کو دیکھتا ہے تو اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ اتنا بڑا تخلیقی منصوبہ بے مقصد نہیں ہو سکتا۔ پھر جب وہ زمین پر بسنے والے انسانوں کو دیکھتا ہے جن میں ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی۔ اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues