ہجرت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۳
آدمی نامانوس زندگی کو چھوڑ کر جائزہ زندگی کو اپنانے کا عزم کرتا ہے۔ اس کے بعد ایک مسلسل جدوجہد شروع ہو جاتی ہے جس میں اس کو بہت سی پرانی چیزوں کو چھوڑ دینا اور بہت سی نئی چیزوں کو اختیار کرنا ہوتا ہے۔ کتنے ہی اپنے لوگوں سے کٹنا اور کتنے ہی غیروں سے جڑنا ہوتا ہے ۔ اندر سے باہر تک بے شمار پسندیدہ چیزوں کو ترک کرنا اور اس کے بجائے دوسری ناخوش گوار چیزوں کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ایمان لانے کے ساتھ ہی مومن کی زندگی میں ہجرت ۔ ۔ ایک نیا طرزِ عمل اختیار کرنے کے لیے بہت سی پرانی چیزوں کو چھوڑنے کی ابتدا ہو جاتی ہے۔ یہ ہجرت جو اس نے خود کی ہے دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا نا شروع کر دیتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں کچھ لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں اور کچھ مخالف بن جاتے ہیں۔ اس طرح ماحول میں دو بالکل مقابل گروہ ابھرنے لگتے ہیں جن میں سے ایک گروہ اس چیز سے چپٹا ہوا ر ہتا ہے جس کو دوسرا گروہ چھوڑنا چاہتا ہے یہ اختلاف صرف اس پہلو سے نہیں ہوتا کہ ایک گروہ دوسرے گروہ پر تنقید کرتا ہے اور اس کے رویہ کو غلط قرار دیتا ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دونوں کے درمیان ایک عملی کش مکش شروع ہو جاتی ہے انسانی معاشرہ ایک وحدت ہے جس میں کوئی شخص دوسرے تمام لوگوں سے الگ اپنے لیے کوئی راہ نہیں بنا سکتا۔ انسان اپنی عین فطرت کے اعتبار سے سماجی واقع ہوا ہے۔ اس کی تمام ضرورتیں دوسروں سے مل جل کر انجام پاتی ہیں اور اس کو دوسروں کے پھیلائے ہوئے نظریات کے درمیان زندگی بسر کرنی ہوتی ہے۔ کوئی شخص اپنے پسند کیے ہوئے نظریہ کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ جب تک وہ سماج کے تمام اداروں میں اسی نظریہ کو رائج نہ کرلے۔ اس کے بغیر نہ تو وہ مدرسہ میں اپنی مرضی کے مطابق تعلیم حاصل کر سکتا نہ بازار میں اپنی مرضی کے مطابق خرید و فروخت کر سکتا، نہ عدالتوں سے اپنے اصول کے مطابق فیصلے لے سکتا۔ حتی کہ وہ یہ بھی نہیں کر سکتا کہ جس چیز کو وہ حلال سمجھتا ہے اسے کھائے اور جو چیزیں اس کے نزدیک حرام ہیں ان کو اپنے حلق کے نیچے اترنے نہ دے۔ اس لیے جب کوئی شخص وقت کے خلاف کسی مسلک کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ لازمی طور پر ان لوگوں سے ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے جن کے بنائے ہوئے نظام کے اندر وہ زندگی گزار رہا ہے۔ انسانی معاشرہ کی مثال ایک جال کی سی ہے جس کے تمام افراد حلقوں کی مانند ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک حلقہ کو الگ کرنے کی کوشش پورے جال کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ اس طرح ایک مستقل اختلاف شروع ہو جاتا ہے جو دن بہ دن نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے۔ قدم قدم پر ایک دوسرے سے مزاحمت پیش آتی ہے جس میں برسراقتدار طبقہ اہل حق کو ستانے اور ان کو ذرائع حیات سے محروم کرنے کی ساری تدبیریں کرتا ہے۔ دونوں طرف سے شدت بڑھتی چلی جاتی ہے ایک طرف مظالم کی شدت۔ دوسری طرف یہ شدت کہ سب کچھ سہیں گے مگر اپنے عزم کو ترک نہیں کریں گے۔ جس چیز کو خاوا ہے مگر ایک بار چھوڑ چکے ہیں اس کی طرف دوبارہ واپس نہیں جائیں گے۔ کیش کش بالآخر ایک ایسے نقطے پر پہنچ جاتی ہے جہاں معاشرہ حق پسندوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور یہ فیصلہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues