ہجرت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۴
کرتا ہے کہ ان کے وجود کو سرے سے ختم کر دیا جائے۔ اس وقت اہل حق یہ طے کرتے ہیں کہ اس بستی کو چھوڑ کر زمین کے کسی دوسرے ٹکڑے میں چلے جائیں۔ پہلے انھوں نے غلط خیالات اور حرام معاملات کو ترک کیا تھا۔ اب وہ اپنے مکان، اپنی جائیداد اپنے عزیزوں، غرض ساری متاع حیات کو چھوڑ دیتے ہیں یہ ہجرت کی آخری اور انتہائی شکل ہے۔
اس ہجرت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک مقام کو چھوڑ کر آدمی دوسرے مقام چلا گیا۔ بلکہ یاحق کو چھوڑ کر حق کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ شیطان اور طاغوت کی بندشوں سے نکل کر خدا کی طرف بھاگنا ہے۔ چنانچہ قرآن وحدیث میں مومنین کی ہجرت کو " ہجرت الی اللہ" کہا گیا ہے۔ یعنی خدا کی طرف ہجرت۔ ایسا کیوں ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ لوگ زمین کو چھوڑ کر آسمان پر نہیں چلے جاتے بلکہ اسی دنیا میں رہتے ہیں، اب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ چھوڑنے کا یہ عمل خدا پرستی کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ خدا کی طرف ہجرت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جو کچھ مانع آئے جو چیز بھی اس کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بنے اس کو چھوڑ دینا۔ یہ خدا پرستانہ زندگی کی بنیاد ہے جب تک آدمی اس ہجرت کے لیے تیار نہ ہو وہ ایمان کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔ اپنی زندگی کو اسلامی زندگی بنانے میں وہی کامیاب ہو سکتا ہے جو اس قربانی کے لیے تیار ہو جب وہ دیکھے کہ اس کے اندر ایسے افکار اور رجحانات پر پرورش پا رہے ہیں جو خدا کی مرضی کے خلاف ہیں تو انھیں کھرچ کر نکال دے۔ اگر وہ غلط اعمال میں مبتلا ہو تو انھیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔ کسی کا تعلق دین کی طرف کھل کر آنے میں روک بن رہا ہو تو ایسے تعلق کو خیر باد کہہ دے۔ کسی معیار زندگی کو برقرار رکھنے کا مسئلہ دین کے کام میں اپنا حصہ ادا کرنے کا موقع نہ دیتا ہو تو ایسے معیار زندگی کو دفن کر دے۔ دین کے تقاضے پورے کرنے میں معاشی خوشحالی کو خطرہ لاحق ہو تو اس کو گوارا کرلے۔ اپنے آپ کو خدمت دین کے لیے وقف کرنے میں اپنا اور بچوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہو تو اس کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ جائے ۔ غرض ہر بار جب آدمی کسی ایسی حالت میں مبتلا ہو کہ ایک طرف خدا طلبارہا ہو اور دوسری طرف کوئی دوسرا تقاضا آدمی کو کھینچ رہا ہو تو دوسرے تقاضوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف بڑھ جانا۔ اسی کا نام ہجرت الی اللہ ہے۔
اس ہجرت کے بہت سے مراحل اور اس کی بے شمار شمیں ہیں مگر اس کی حقیقت سمجھنے کے لیے ہم اس کو دو بڑے عنوانات میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک ناجائز اور حرام چیزوں کو چھوڑنا اور دوسرے ان چیزوں کو چھوڑنا جو فی نفسہ قابل اجتناب نہیں ہیں۔ مگر دین کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں ایسے مراحل آتے ہیں کہ مومن کو ان سے بھی دست بردار ہونا پڑتا ہے۔
ہجرت کی پہلی قسم میں خیالات اور اعمال کی وہ پوری فہرست آتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام اور قابل ترک قرار دیا ہے ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے ماحول نام ہے تاریخ، روایات، عادات اور چال چلن کے ایک مخصوص ڈھانچہ کا ۔ یہ افکار و اعمال کا ایک نظام ہے جو زندگی کے تمام گوشوں پر چھایا ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues