خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۶
حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل اسی دورمشقت سے گزررہے تھے۔ آپ نے قبطی فرعونی تہذیب کے مقابلہ میں مغلوب حیثیت اختیار کرنے کے بجائے خود ان کے اوپر اقدام کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے دعوت دینی شروع کی کہ دین خداوندی کو اختیار کرو، ورنہ تم سب کے سب تباہ کردیئے جاؤ گے۔ یہ چیز فرعون کے غصہ میں صرف اضافہ کرسکتی تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے لئے مصر کی زندگی آپ کے آنے کے بعد تلخ تر ہوگئی۔ حتیٰ کہ اس میں مزید یہ اضافہ ہوا کہ شاہی حکم کے تحت بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے بیٹوں کو قتل کیا جانے لگا تاکہ ان کی نسل دھیرے دھیرے مصر سے ختم ہوجائے۔ قدیم مصری آثار کی کھدائی کے دوران ۱۸۹۶ میں ایک کتبہ ملا ہے جس میں حضرت موسیٰ کے زمانہ کا فرعون منفتاح فخر کے ساتھ کہتا ہے ’’اور اسرائیل کو مٹا دیا گیا، اس کا بیج تک باقی نہیں‘‘ اس وقت بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے شکایت کی: ’’آپ کے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جارہے تھے اور اب آپ کے آنے کے بعد بھی ستائے جارہے ہیں‘‘ (اعراف - ۱۲۹)
اس انتہائی نازک مرحلہ میں بنی اسرائیل کو جو جواب دیا گیا ، وہ قرآن کے لفظوں میں یہ ہے : وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا او رب ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی کی کہ تم دونوں بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا اپنی قوم کو مصر میں ٹھہراؤ اور اپنے گھروں کو مرکز عمل الصَّلَاةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ۔ یونس ۔ ۸۷ بنا لو اور نماز قائم کرو اور مومنین کو بشارت دے دو اس آیت میں جو پروگرام دیا گیا ہے، اس کو حسب ذیل طریقے پر بیان کیا جا سکتا ہے ۔
۱۔ جہاں ہو، وہاں جمے رہو۔ اپنے اندر خوف وانتشار کو جگہ مت دو۔ یہ وہی چیز ہے جس کو حضرت مسیح نے ان الفاظ میں کہا تھا: جب تک عالم بالا سے تم کو قوت کا لباس نہ ملے اس شہر میں ٹھہرے رہو (لوقا ۲۴ : ۴۹) ۲۔ اپنے گھر کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لو، یعنی باہمی اتحاد، اندرونی استحکام ، آپس کے صبر و نصیحت اور ذاتی ذرائع پر انحصار، یہ وہ چیزیں ہیں جن پر تھیں موجودہ حالت میں اپنی توجهات کو مرتکب رکھنا چاہئے۔ ۳۔ نماز قائم کرو۔ یعنی اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرو، اس کی یاد، اس سے مانگنا ، اس کے آگے اپنے آپ کو بالکل جھکا دینا، ان صفات کو زیادہ سے زیادہ اپنے اندر پیدا کرو۔
۴۔ یہی وہ طریق عمل ہے جس میں تمھارے لئے دنیا و آخرت کی تمام خوش خبریاں چھپی ہوئی ہیں۔ پوری یکسوئی کے ساتھ ان کی تکمیل میں لگ جاؤ ۔ اس سہ نکاتی پروگرام کو مختصر طور پر اس طرح کہہ سکتے ہیں ۔ استقامت' داخلی تعمیر تعلق باللہ ۔ اس پروگرام پر عمل کرنے کا بالا خرجو نتیجہ نکلا ، وہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہے : اور جو لوگ کمزور کر دیئے گئے تھے، ہم نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا مالک بنا دیا جس میں ہم نے برکت دی ہے۔ اور تمھارے رب کا بہترین کلمہ بنی اسرائیل کے لئے پورا ہوکر رہا۔ اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو اس کی صنعتوں اور اس کے فارموں کے ساتھ مشاکر رکھ دیا۔ اعراف ۔ ۱۳۷ D لے تبوا لقومكما بمص بیوتا کا ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب نے ان الفاظ میں کیا ہے: ساکن کنید قوم خود را به شهر در خانها قبلہ کا لفظ قبل کا اسم نوع ہے۔ اس کا اصل مفہوم ہے " مرکز توجہ " کہتے ہیں قبلت الماشية الوادي: جانور وادی کی طرف متوجہ ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues