خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۴
اراسی لیے ہم نے اسکولوں کے بورڈوں کو لکھا تھا کہ وہ اسکولوں میں تاریخوں کے پرچے کو لازمی نہ بنائیں لیکن بورڈوں نے ہماری اس تجویز پر کوئی توجہ نہیں دی ہم امید کرتے ہیں کہ جناب محترم وفاقی وزیر تعلیم ہماری اس تجویز پر ضرور غور فرمائیں گے۔
ظاہری حالات خواہ کتنے ہی سخت ہو جائیں ایک نئی زندگی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے وہوالذي مرج البحرين هذا عذب فرات وهذا ملح اجاج وجعل بينهما برزخا و حجرًا محجوراً فرقان - ۵۳ اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے۔ ایک لذیذ و شیریں، دوسرا تلخ و شور، اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ ایک رکاوٹ ہے جو انھیں گڈ مڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔
یہ کیفیت ہر اس جگہ رونما ہوتی ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں آکر گرتا ہے۔ اس کے علاوہ خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس (كاتب رومی) اپنی کتاب مراة الممالک میں، جو سولھویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے، خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس نے کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانہ میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتدا ء وہ بھی خلیج فارس کے انھیں چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی۔ بعد میں ظہران کے پاس کنویں کھود لئے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہ میں آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ مدت پہلے تک پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں۔
یہ تو ہے آیت کا ظاہری مضمون، جو اللہ کی قدرت کے ایک کرشمے سے اس کے الہ واحد اور رب و واحد ہونے پر استدلال کر رہا ہے۔ مگر اس کے بین السطور سے بھی ایک لطیف اشارہ ایک دوسرے مضمون کی طرف نکلتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ انسانی معاشرے کا سمندر خواہ کتناہی تلخ وشور ہوجائے، اللہ جب چاہے اس کی تہ سے ایک جماعت صالحہ کا چشمہ شیریں نکال سکتا ہے اور سمندر کے آب تلخ کی موجیں خواہ کتناہی زور مارلیں، لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے میں خود اپنے بڑے کے لئے پینے کا پانی حاصل وہ اس چشمہ کو ہڑپ کر جانے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ تفہیم القرآن جلد ۳ ، صفحہ ۴۵۸
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues