Al-Risala · October 1977 · page 43

ہجرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳

ہم کو زندگی کے صرف چند دن حاصل ہیں۔ ایسے چند دن جن کا انجام کروڑوں اور اربوں سال نہیں بلکہ ابد الآباد تک بھگتنا پڑے گا۔ جس کا آرام بے حد خوش گوار ہے اور جس کی تکلیف بے حد درد ناک ۔ ہر بار جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ آپ کی عمر میں ایک دن اور کم کر دیتا ہے۔ اس عمر میں جس کے سوا آنے والے ہولناک دن کی تیاری کا اور کوئی موقع نہیں ۔ ہماری زندگی کی مثال برف بیچنے والے دوکان دار کی ہے، جس کا اثاثہ ہر لمحہ گھل کر کم ہوتا جا رہا ہو اور جس کی کامیابی کی شکل صرف یہ ہو کہ وہ وقت گزرنے سے پہلے اپنا سامان بیچ ڈالے ورنہ آخر میں اس کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا اور دکان سے اس کو خالی ہاتھ اٹھ کر جانا پڑے گا۔ پھر قبل اس کے کہ موت آکر ہم کو اس دنیا سے جدا کر دے، جہاں صرف گزرنا ہے اور اس دنیا میں پہنچا دے جہاں کرنا نہیں بلکہ صرف پانا ہے، ہمارے لیے ضروری ہے کہ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کا صحیح مصرف سوچ لیں۔ ہم سب کو ایک روز مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ پھر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے رب کے پاس اس حال میں پہنچیں کہ دنیا میں وہ حق کے لیے اپنا سب کچھ لٹا چکے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے انھیں پر نظر کرے گا۔ (تقریر اجتماع جماعت اسلامی ہند بمقام لکھنو ، یکم مارچ ۱۹۵۸ ) گلاب کی سات سو قسمیں شمالی ہند کی سردیوں کے موسم میں گلاب کے پھول سب سے زیادہ اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ یہاں ایک عمدہ پھول ۲۵ پیسے میں مل جاتا ہے مگر اس پھول کی قیمت یورپ میں آٹھ روپے ہو جاتی ہے۔ یورپ کی پھول منڈیوں میں کروڑوں ڈالر کے گلاب فروخت ہوتے ہیں، تاہم ہندوستان کی برآمدات میں گلاب کا کوئی حصہ نہیں۔

اسٹیٹ ٹریڈنگ کارپوریشن نے ۱۹۶۹ء میں گلاب کے پھول یورپ بھیجنے کی کوشش کی تھی۔ مگر گلاب کی قیمت اسی وقت ہے جب کہ وہ اپنی فطری شادابی کی حالت میں اپنی منڈی میں پہنچ جائے اس لیے کہ روانگی کا خصوصی اہتمام کرنا ہوتا ہے جس میں ہم کو کامیابی نہ ہوسکی۔ اسٹیٹ ٹریڈنگ کارپوریشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے: ”گلاب کے پھولوں کی یہ برآمد آزمائشی تھی مگر جب ہم کوالٹی، تازگی، پیکنگ اور ہوائی سفر کے مسائل کو حل کریں گے تو اس تجارت میں ہماری کامیابی یقینی ہے۔ انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے باغبانی کے شعبہ نے گلاب کی تقریباً ایک درجن قسموں کی نشاندہی کی ہے جو یورپ کی منڈیوں میں عام طور پر دوسرے ملکوں سے آتی ہیں۔ اس ادارہ نے گلاب کی پیدائش کے بعض ترقی یافتہ طریقے بھی معلوم کیے ہیں جو یورپی منڈیوں کی ضروریات کے لیے کارآمد ہو سکتے ہیں۔

گلاب کے برآمدی امکانات کو دیکھ کر دہلی کے اطراف کے تقریباً ۲۰ کسانوں نے اس کی کاشت میں دلچسپی لینا شروع کر دیا ہے۔ ذاکر حسین روزگارڈن، جس کو چڈی گڑھ ایڈمنسٹریشن چلاتا ہے، اس نے بھی اس سلسلے میں کام شروع کیا ہے۔ ملراج اروڑا کے فارم میں ۷۰ ہزار گلاب کے پودے لگائے گئے ہیں۔ گلاب کا پھول قدیم زمانہ میں صرف شاعروں کے لیے مضمون بندی کا ذریعہ تھا، مگر آج وہ قیمتی زر مبادلہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page