Al-Risala · October 1977 · page 42

ہجرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۲

آخری سرمایہ تک قربان کر دے۔

قرآن کی اسی بتائی ہوئی زندگی کو پورا کرنے یا نہ کرنے پر ہمارے مستقبل کا انحصار ہے۔ ایک شخص جو اس حقیقت کو جان چکا ہو کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے، اور پھر جو اس واقعے پر بھی ایمان لایا ہو کہ آخرت کا ایک عظیم دن آنے والا ہے جب پوری نسل انسانی خدا کی عدالت میں کھڑی کی جائے گی۔ اس کی خواہش اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ قیامت کے اس ہولناک دن، جب وہ مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہو تو اس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ یہ کہہ دے کہ یہ میرا بندہ ہے جو دنیا کی زندگی میں میرا وفادار رہا۔ مگر یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ یہ مقام کسی کو محض خواہش کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی معمولی حکومتوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی کو وفاداری کا سرٹیفکٹ صرف اس وقت دیتی ہیں جب کہ وہ اس کا دین، اخلاق اور ضمیر سب کچھ اس سے خرید لیتی ہیں۔ پھر خدا جو تمام حاکموں کا حاکم ہے، جو بے حد غیرت مند ہے جو اپنی خدائی میں کسی کی معمولی شرکت بھی گوارا نہیں کرتا، وہ کیا محض دل کی ایک خواہش یا زبان کی حرکت سے خوش ہو جائے گا اور کسی کو محض اس بنا پر وفاداری کا اعزاز بخش دے گا کہ وہ ایسا چاہتا ہے، خواہ اس نے اپنی وفاداری کو عملاً اس کے لیے خاص کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری تمام وفادار یوں کی طرح خدا کا وفادار بننے کی خواہش بھی ایک عظیم جد وجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ دنیا کے اداروں میں کسی کی اہمیت صرف اس وقت تسلیم کی جاتی ہے جب وہ اپنی بہترین صلاحیتیں اس کے لیے وقف کر دے۔ ایک دکان اپنے اندر نفع کے امکانات کسی کے اوپر صرف اس وقت ظاہر کرتی ہے جب آدمی اپنا سب کچھ اسے دے دیتا ہے۔ حکومتوں کے نزدیک کوئی شخص صرف اسی وقت اعتماد اور احترام کا مستحق بنتا ہے جب وہ اپنے آپ کو پوری طرح اس کی نذر کر چکا ہو۔ ٹھیک اسی طرح اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی وفاداری کا مقام صرف اسے حاصل ہوتا ہے جو اپنی قربانیوں کے ذریعہ اس کا استحقاق ثابت کر دے۔ شرک نہ دنیا کے معبودوں کو پسند ہے اور نہ خدا کو۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر اس دن کا تصور کیجیے جب ہم اور آپ اور تمام اگلے پچھلے پیدا ہونے والے خدا کے پاس اس حال میں جمع کیے جائیں گے کہ ایک رب العالمین کے سوا سب کی آوازیں پست ہو چکی ہوں گی۔ جس دن آدمی اپنے سوا ہر ایک کو بھول جائے گا۔ خواہ وہ اس کا دوست اور قریب ترین عزیز کیوں نہ ہو۔ جس دن صرف حق بات میں وزن ہوگا اور اس کے سوا تمام چیزیں اپنا وزن کھو چکی ہوں گی۔ جس روز آدمی حسرت کرے گا کہ کاش اس نے ساری عمر صرف آج کی تیاری میں صرف کر دی ہوتی۔ یہ فیصلہ کا دن ہو گا۔ ہمارے درمیان اور اس دن کے درمیان صرف موت کا فاصلہ ہے۔ وہ موت جس کے متعلق کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کب آجائے گی۔ آج جو لمحات ہم گزار رہے ہیں اس کے ہر لمحہ کا انجام ہم کو آئندہ کروڑوں سال تک بھگتنا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسے انجام کی طرف چلا جا رہا ہے جہاں اس کے لیے یا تو دائمی عیش ہے یا دائمی عذاب۔ زندگی کی مثال ایک ڈھلوان کی ہے جس پر سارے انسان نہایت تیزی کے ساتھ بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ ہر لمحہ جو گزرتا ہے وہ ہم کو اس آخری انجام سے قریب تر کر دیتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقدر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page