Al-Risala · December 1977 · page 7

اقدام سے پہلے تیاری ضروری ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۷

طاقت ورتھی کہ جن مشرک قوموں نے اسلام کو اختیار نہیں کیا انھیں بھی اپنی زندگی اس میں نظر آئی کہ غیر اللہ کی پرستش کو چھوڑ کر خدا کی پرستش اختیار کرنے کی آواز بلند کریں۔ عیسائیوں میں مارٹن لوتھر (۱۴۸۳ ۱۵۴۶) اور ہندوؤں میں رامانند اس کی مثال ہیں۔ اس طرح معلوم انسانی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ کائنات پر ستش کے بجائے تحقیق و تجسس کا موضوع بن گئی۔ یونانی قیاسات اور مصری توہمات کی بنیاد پر بنا ہوا فکری نظام ٹوٹ گیا۔ انسان نے خالی الذہن ہو کر عالم فطرت کے اسرار دریافت کرنے شروع کر دیئے یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا جب کہ الہامی علم اور انسانی علم دونوں ایک دوسرے کے مصدق بن گئے۔ یہ کھوج لادگارہویں۔ صدی عیسوی میں اسپین اور سسلی میں ابھری اور بیسویں صدی میں پہنچ کر مغرب نے اس کو ایک مکمل علم بنا دیا۔ پیغمبر اسلام کے ذریعہ ظہور میں آنے والا واقعہ (اسلامی انقلاب) آپ اور آپ کے اصحاب کی زندگی ہی میں مطلوب تھا اس لئے قرآن میں اس کے لئے حال کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے (لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ) مگر اگلا واقعہ (علوم فطرت کا انکشاف) آپ کے انقلاب کے زمیناتہ بعد کو ظہور میں آنے والا تھا، اس لئے اس کو استقبال کے صیغہ میں بیان کیا گیا :

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ (نمل - (۹۳)

سنُريهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (فصلت - (۵۳) بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ (یونس - ۳۹) جدید سائنس کے ذریعہ فطرت کے جن اسرار و حقائق کا انکشاف ہوا ہے، ان کی اہمیت کو مذہبی حلقوں میں رکھی بہت کم سمجھا گیا ہے۔ حالانکہ یہ آلاء اللہ (اعراف - ۶۹) کا علم ہے۔ یہ علوم الہیہ کی تاویل (یونس - ۳۹) ہے۔ قرآن اگر آیات الہی کی تفصیل ہے تو سائنس کے دریافت کردہ حقائق تدبیر امر (رعد - (۲) کی تفسیر ۔ اس تیسرے دھماکہ" کے بعد حقیقت آخری طور پر برہنہ ہو چکی ہے۔ معرفت الہی کے تمام دروازے کھولے جا چکے ہیں۔ اس کے بعد بھی جو لوگ سچائی کو پانے میں ناکام رہیں، وہ صرف اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ عاجلہ پسندی (قیامه - ۲۰) اور ظلم و علو (نمل - ۱۴) نے ان کو اندھا بنا رکھا ہے۔ ایسے لوگوں کو اب صرف چوتھے دھماکہ کا انتظار کرنا چاہئے جبکہ صور (نبا - (۱۸) پھونکا جائے گا اور موجودہ دنیا کی بساط لپیٹ (انبیاء - (۱۰۴) دی جائے گی تاکہ سچوں کو ان کی سچائی کا اور بروں کو ان کی برائی کا بدلہ دیا جائے۔

اقدام سے پہلے تیاری ضروری ہے

عربی کا ایک مثل ہے: قبل الرمی تراش السهم تیر مارنے سے پہلے تیر کو کمان میں ٹھیک طریقہ سے جمایا جاتا ہے ، تیر کو کمان میں اچھی طرح بٹھائے بغیر یونہی چلا دیا جائے تو وہ کبھی نشانہ پر نہیں لگے گا۔ اسی طرح کوئی اقدام ضروری تیاری کے بغیر کیا جائے تو اس کا ناکام ہونا یقینی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page