تاریخ کے صفحات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۶
اسلام کے اندر پیدا ہوئے ۔ مثال کے طور پر شیعہ اور صوفیاء کو لیجئے ۔ شیعیت ابتدا ء اگر چہ سیاسی محرک کے تحت پیدا ہوئی اور تصوف روحانی محرک کے تحت ، تاہم دونوں اپنے آپ کو اسلام کے صحیح ترین نمائندے کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں ۔ ان کے بیان کے مطابق کسی کی نجات ان کے طریقے کو اختیار کئے بغیر ممکن نہیں۔ مگر ایک شخص جب ان دونوں کے عقائد و خیالات کو مطالعہ کرتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر پاتا ہے ان کے مزعومات اور طریقوں کا قرآن کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ۔ شیعیت اور تصوف دونوں اگر چہ قرآن ہی کا حوالہ دیتے ہیں ، مگر ایک غیر جانب دار مبصر کے لئے دونوں متوازی مذاہب ہیں جو قرآن کے بالمقابل قرآن کے نام پر کھڑے کر لئے گئے ہیں ، اگر قرآن کا متن اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہ ہوتا تو اسلام انسانی آمیزشوں کا شکار ہو کر اتنی مختلف شکل اختیار کر لیتا کہ کسی بندہ خدا کے لئے اپنے رب کی مرضی کو جاننا ہی نا ممکن ہو جاتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ متن قرآن کی حفاظت اتنی ہی اہم ہے جتنا قوانین فطرت کا استحکام ۔ قوانین فطرت میں اگر استحکام نہ ہوتا تو سائنس وجود میں نہ آتی ، اسی طرح متن قرآن اگر محفوظ نہ ہوتا تو خدا پرستی ساری دنیا کے لئے ایک لامعلوم چیز بن جاتی ۔ انسان کو زمین کا خلیفہ ( با اقتدار ) بنا کر پیدا کیا گیا ہے ( بقرہ ۔ ۳۰ ) ۔ اقتدار و اختیار کا مالک ہونے کی وجہ سے ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ وہ بگڑ جائے اور خدا کی زمین میں فساد بر پا کرنے لگے ۔ اس سے بچنے کے لئے انسان کو خصوصی طور پر اسماء کا علم ( بقرہ ۔ ۳۱ ) دیا گیا ۔ اسماء سے مراد اللہ کے نام ، بالفاظ دیگر اس کی وہ جھلکیاں ہیں جو اس کی پیدا کی ہوئی کائنات میں ہر طرف نقش ہیں ۔ اللہ کا یہ تعارف ہر چیز سے اس طرح ابلا پڑ رہا ہے گویا کہ تمام چیزیں خدا کی تسبیح پڑھ رہی ہوں ( حشر ۔ آخر ) ۔ ” آدم کو سارے نام سکھا دیئے ( بقرہ ۔ ۳۱ ) کا مطلب یہ ہے کہ اس کو یہ صلاحیت دے دی کہ وہ ہر چیز میں خدا کا نام پڑھ لے ، ہر چیز میں اپنے خالق کا جلوہ دیکھ لے۔ انسان کو سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی جو اعلیٰ صلاحیتیں دی گئی ہیں ، ان کا صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو وہ چڑیوں کے چہچہے میں خدا کا ذکر سنے گا ، پھول کی رنگینیوں میں خدا کا جلوہ دیکھے گا ۔ کائنات اس کے لئے خدا کے اٹھارہ کرشموں کا آئینہ بن جائے گی ۔ اگر آدمی اپنے کو اندھا بہرہ ( اعراف ۔ ۱۷۹ ) نہ بنا لے تو اسماء الہی کا یہ علم اس کو ہر قسم کے بگاڑ سے بچانے کے لئے بالکل کافی ہے ۔ جو خادم ہر آن اپنے آفاقی عظمتوں اور قدرتوں کا مشاہدہ کر رہا ہو ، وہ کیسے جرات کر سکتا ہے کہ اس کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھائے ۔ کائنات میں اللہ کے یہ تمام ” نام “ اول دن سے لکھے ہوئے ہیں اور اپنی فطری صلاحیت کے اعتبار سے انسان ہمیشہ اس قابل رہا ہے کہ وہ ان ناموں کو ” پڑھ “ سکے۔ مگر جیسا کہ آرنلڈ ٹائن بی ( ۵ ۱۹ - ۱۸۸۹ ) نے لکھا ہے ، انسان اپنی مظاہر پرستی کی وجہ سے اپنے طویل ماضی میں ان حقائق کو بے نقاب نہ کر سکا کہ پیغمبروں کی زبان سے مسلسل خدا پرستی کی دعوت کے باوجود مظاہر قدرت انسان کو کچھ اس طرح متاثر کرتے رہے کہ خدا کے بجائے وہ انھیں مظاہر کو دیوتا بنا کر ان کو پوجتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کے لئے کائنات پرستش کا موضوع بن گئی ، حالانکہ صحیح بات یہ تھی کہ وہ اس کے لئے تحقیق اور تسخیر ( (جاثیہ۔ ۔ ۱۳ ) کا موضوع بنتی ۔
علم اسماء کے لاشعوری علم کو شعوری علم بنانے کے لئے تیسرا دھماکہ درکار تھا اور اس کو اسلامی انقلاب نے فراہم کر دیا۔ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب نے عالمی سطح پر مظاہر پرستی کو ختم کر کے خدا پرستی کی عمومی فضا پیدا کی۔ یہ فکری حرکت اتنی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues