اقدام سے پہلے تیاری ضروری ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲
لے سیلو کر غنا اور اس دینی خدمت کے لئے اپنے ساتھ بیمار حبیب اس سے بھی اپنی قوت کی کمی کی تلافی نہ ہوسکی تو جمہوریت کے نام پر ہنگامہ کرکے شیخ مجیب الرحمن کو رہا کرایا گیا۔ ان کی رہائی اسلام کے تو کچھ کام نہ آئی۔ البتہ اس کے فورا بعد بنگنائیت اپنے تمام اجزاء کے ساتھ زندہ ہوگئی۔ دوسروں کے بل پر کئے ہوئے اس اقدام کا نتیجہ ۱۹۷۱ میں اس طرح برآمد ہوا کہ پاکستان مزید دو ٹکڑے ہوگیا۔ متحدہ پاکستان نے پاکستان اور بنگلہ دیش کی صورت اختیار کر لی مسلمانوں کی جغرافیائی تقسیم کا عدد آٹھ سے نو تک پہنچ گیا ۔
بچے ہوئے پاکستان میں اب اسلام پسند گروہ پھر اپنے مقدس مشن کے لئے متحرک ہے۔ تاہم وہ محسوس کر رہا ہے کہ اس کی اپنی طاقت اس کے محبوب انقلاب کو لانے کے لئے ناکافی ہے۔ اپنی اس کمی کی تلافی کے لئے اب وہ خان عبدالولی خاں کو رہاکرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ نادم تحریر یہ کوشش ابھی واقع نہیں بنی ہے۔ تاہم بادشاہ خاں کا یہ حوصلہ مند وارث اگر قید سے باہر آگیا تو یقینی ہے کہ پشتونستان کی تحریک از سر نو زندہ ہو جائے گی اور عجیب نہیں کہ اسلامی خلافت کے قیام کی یہ بلند بانگ تحریک صرف اس انجام پر ختم ہو کہ موجودہ پاکستان دوبارہ منقسم ہو کر مشرقی اور مغربی حصوں میں بٹ جائے اور برصغیر کے مسلمانوں کا جغرافیائی انتشار دس کے عدد کو پورا کرے ۔ ثلاث عشرہ کا حملہ !
وحید الدین ۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۷۷ء یہ کام ہے یا لیڈر کی ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (۱۹۱۳-۱۹۷۴) ابتداء میں آل انڈیا امن کونسل کے ممبر تھے۔ اس کے بعد اس سے علیحدہ ہوگئے اور اولاً آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور اس کے بعد مسلم مجلس کے ذریعہ کام کرتے رہے۔ امن کونسل سے اپنی علیحدگی کے بارے میں ایک شخص کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا : جب جبل پور میں بدامنی (۱۹۶۳) ہوئی تو میں نے کونسل سے کہا کہ چلو، جبل پور چل کر کچھ کام کریں۔ مگر ان لوگوں نے میری بات نہ مانی۔ وہ بین الالاقوامی امن کی بات تو کرتے تھے۔ مگر انھیں گھر کی بدامنی رفع کرنے کے کام سے دل چسپی نہ تھی۔ مجھے یہ بات عجیب سی لگی اور محسوس ہوا کہ ایسی تنظیم سے میرا تعلق رکھنا بے کاری بات ہے۔ اس لئے میں نے استعفا دے دیا‘‘ (الحسنات اگست ۱۹۷۷ء)
ڈاکٹر صاحب مرحوم نے جو بات امن کونسل کے بارے میں کہی، وہ صد فی صد صحیح ہے، صرف اس اضافہ کے ساتھ کہ خود ہمارے رہنماؤں کا حال بھی یہی ہے۔ ہمارا تقریباً ہر رہ نما، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، عالمی کاموں سے خصوصی دل چسپی رکھتا ہے۔ اپنے گھر، اپنے محلہ، اپنے ادارہ اور اپنے قریبی دائرہ میں اس کے لئے جو کام ہیں، اس میں مصروف ہونا وہ اپنے لئے چھوٹی بات سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس آل انڈیا اجتماعات کی صدارت اور بین اقوامی نمائش گاہوں میں تقریری کمال دکھانا اس کو زیادہ پسند ہے۔ موجودہ زمانہ میں ملت کی بربادی کی، اگر حل نہیں تو کم از کم ایک بڑی وجہ، یقیناً یہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues