Al-Risala · December 1977 · page 11

اقدام سے پہلے تیاری ضروری ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۱

یہ سیاست !

پاکستان کی قومی اسمبلی کے انتخابات (۷۷ کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو پاکستان کی نو پارٹیوں کے اسلامی محاذ نے شور مچانا شروع کیا کہ مسٹر بھٹو اور ان کی پارٹی دھاندلی کر کے الیکشن جیتی ہے۔ یہ بات جزوی طور پر ہی صحیح تھی۔ مسٹر بھٹو نے صرف ۲۰ سیٹوں پر دھاندلی کی تھی۔ اس دھاندلی کا مقصد اپنی کامیابی کی مقدار کو بڑھانا تھا۔ ورنہ ان کو پاکستان میں اتنی مقبولیت حاصل تھی اور اب بھی حاصل ہے کہ قطعاً منصفانہ الیکشن میں بھی ان کی پارٹی ۵۰ فی صد سے زیادہ نشستوں پر قابض ہو سکتی تھی۔

تاہم اسلامی عدل کے علم برداروں کے لئے یہ جزوی غلطی بھی ناقابلِ برداشت تھی۔ انھوں نے ملک میں آگ لگا دی۔ گار جین اور اکونو مسٹ (لندن) کے ایشیائی نمائندہ سائمن ونچسٹر SIMON WINCHESTER نے پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ انتخاب کے نتائج کے اعلان کے چند گھنٹہ بعد ہی پاکستان قومی اتحاد نے پاکستان کے شہروں میں بلوے اور احتجاج کی مہم شروع کر دی ۔ اس کے بعد حکومت کی مشینری قیام امن کے لئے متحرک ہوئی۔ اور پھر جو نتیجہ نکلا، وہ اس کے الفاظ میں یہ تھا : A FEW HOURS LATER THE JEEPS WERE OUT IN LAHORE, RAWALPINDI, HYDERABAD, AND KARACHI. THERE WERE CURFEWS, GASSINGS, SHOOTINGS MORE RIOTS, MANY DEATHS. BY THE TIME THE UNREST SETTLED, SOME THREE HUNDRED PAKISTANIES HAD DIED-----AND ALL, IT NOW SEEMS FOR NOTHING. (I.W., 16.10.77)

چند گھنٹے بعد لاہور ، راولپنڈی، حیدر آباد اور کراچی کی سڑکوں پر جیپیں دوڑ رہی تھیں۔ کرفیو ، آنسو گیس، گولیاں اور پھر مزید فسادات اور اموات ۔ اب جبکہ یہ ہنگامہ تھم گیا ہے، تقریباً تین سو پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں، اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک بے مقصد انجام کے لئے۔ “ بدقسمتی سے یہی ہماری پوری جدید تاریخ کا خلاصہ ہے۔ سیاسی اقدامات، بربادیاں اور پھر آخر میں کچھ نہیں۔ ڈیڑھ سو برس سے پوری قوم نہایت اخلاص کے ساتھ اسی نام نہاد قربانی کے عمل کو دہرارہی ہے۔

وہ انسانی گروہ جس کے مجموعہ کو ”ہندوستانی مسلمان “ کہا جاتا ہے، چالیس سال پہلے ایک عظیم ملک کے طول وعرض میں پھیلا ہوا تھا جس کی سرحدیں ایک طرف برما سے لے کر بلوچستان تک اور دوسری طرف سیلون سے لے کر تبت تک چلی گئی تھیں۔ اس کے بعد مسلمانوں نے ۔ اپنے بل پر نہیں بلکہ انگریزوں کے بل پر ایک طوفانی تحریک اٹھائی۔ اس تحریک کا مقصد ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنا تھا۔ مگر ۱۹۴۷ء میں جب یہ کوشش اپنے انجام کو پہنچی تو برصغیر کے مسلمان آٹھ علیحدہ ملکوں (پاکستان، ہندوستان، سیلون، برما، تبت، نیپال، بھوٹان، مالدیپ) میں بٹ گئے ۔ اس سے پہلے وہ اس پورے خطہ میں بے روک ٹوک سفر کر سکتے تھے اور ہر جگہ اللہ کے پیغام کی اشاعت کے لئے جدوجہد کر سکتے تھے۔ مگر دوسروں کے بل پر کی ہوئی کوشش کا نتیجہ ان کے اپنے حق میں نہیں نکل سکتا تھا۔ انگریز نے مسلمانوں کو آٹھ ملکوں میں تقسیم کر کے ان کی قوت منتشر کر دی ۔ اس کے بعد دوسری چھلانگ شروع ہوئی ۔ اس چھلانگ کا عنوان تھا: ” مملکت خدا داد میں اسلامی قانون کا نفاذ“۔ مگر اس بار بھی اقدام کرنے والوں کے ساتھ وہی کمزوری لگی ہوئی تھی۔ وہ اپنی طاقت کے بل پر اپنے مفروضہ حریف کو زیر نہیں کر سکتے تھے۔ انھوں نے اولاً موجودہ پاکستان

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page