Al-Risala · December 1977 · page 21

ماء زمزم لما شرب له

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۱

اس میں خدائی تعلیمات زیادہ صحیح اور مؤثر طریقہ سے بیان ہوئی ہیں" یہ ان چاروں سے بدر جہا بہتر ہے۔ حضرت عیسیٰ کی تعلیمات اس میں چاروں انجیلوں کی نسبت زیادہ صحیح اور مؤثر طریقہ سے بیان ہوئی ہیں۔ مجھے آکسفورڈ سے شائع شدہ برناباس کے انگریزی ترجمہ (۱۹۰۷) کی ایک فوٹو سٹیٹ کاپی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے اسے لفظ بلفظ پڑھا ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس سے عیسائیوں نے محض تعصب اور ضد کی بنا پر اپنے آپ کو محروم کر رکھا ہے۔ “ اوپر کے اقتباس میں جس کمزوری کی نشان دہی کی گئی ہے، وہ صرف عیسائیوں کی کمزوری نہیں ہے۔ بلکہ عام کمزوری ہے۔ اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ کچھ افکار و خیالات کو اپناتے ہیں۔ ابتداءً یہ اپنانا محض نظریاتی وابستگی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے وہ تعصب بن جاتا ہے اور اگر اس نظریہ کی بنیاد پر ان کو کچھ دنیوی مقبولیت حاصل ہو جائے تو تعصب مزید آگے بڑھ کر عزت کا سوال بن جاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی سچائی خواہ کتنے ہی واضح انداز میں ان کے سامنے لائی جائے اور ان کے موقف کو کتنے ہی زیادہ دلائل سے غلط ثابت کر دیا جائے، بہر حال وہ اس سے چمٹے رہتے ہیں۔ وہ کسی حال میں اپنے سے باہر کسی سچائی کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ کیونکہ انھیں اندیشہ ہوتا ہے کہ اس طرح ان کا کاروبار بگڑ جائے گا۔ ان کی پوزیشن خطرہ میں پڑ جائے گی، اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بالإِثْمِ کا مصداق بن کر وہ کھلی ہوئی سچائی کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ انجیل برناباس عیسائیوں کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ مگر ضد اور تعصب نے ان کو اس نعمت سے محروم کر رکھا ہے ۔ اس قسم کی نعمتوں کے دستر خوان اللہ دوسروں کے لئے بھی کھولتا ہے ۔ مگر وہ اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہتے ہیں ۔ دوسروں کے ضد اور تعصب کی خبر ہر ایک کو ہے ۔ مگر اپنے ضد اور تعصب کی کسی کو خبر نہیں ۔

مسائل زمزم !

حدیث میں ہے :

ماء زمزم لما شرب له

زمزم کا پانی جس مقصد کے لئے پیا جائے وہ پورا ہو گا دوسری حدیث ہے :

لا يجمع ماء زمزم ونار جهنم فى جوف عبد زمزم کا پانی اور دوزخ کی آگ ایک انسان کے پیٹ میں جمع نہیں ہو سکتے ۔

اس بنیاد پر فقہاء نے زمزم کے آداب مقرر کئے ہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ زمزم کا پانی خود اپنے ہاتھ سے نکالا جائے اور قبلہ کی جانب رخ کر کے خوب سیر ہو کر پیا جائے اور ہر سانس پر نظر اٹھا کر بیت اللہ کو دیکھے اور بچا ہوا پانی اپنے منھ اور جسم پر مل لیا جائے اور ہو سکے تو کچھ اپنے جسم پر بھی ڈال لے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues

Printed page