اعتراض برائے اعتراض
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴
آدَمِی کے سَامنے سچائی آتِی ہے مگر ضِد کی نَفسیات اور عَزّت کا سوال اِس کو سچائی کے اعتراف سے رُوک دیتا ہے نئے عہدنامہ،، کے نام سے عیسائیوں کی جو مُقدس کتاب ہے، اس میں حضرت مسیح کے حالات اور تعلیمات کے بارے میں چار انجیلیں شامل ہیں۔ تا ہم چوتھی صدی عیسوی میں ان چار انجیلوں کو سرکاری طور پر معتبر قرار دینے سے پہلے اور بہت سی انجیلیں عیسائی حضرات کے درمیان رائج تھیں۔ انھیں میں سے ایک انجیل برناباس ہے۔ گمان کیا جاتا ہے کہ برنا باس حضرت مسیح کے حواریوں میں سے تھا۔ سینٹ پال نے جب مسیحیت کو بدلا تا کہ دوسری اقوام کے لئے مسیحیت میں داخلہ کو آسان بنایا جا سکے تو برناباس نے مسیح کے حالات اور تعلیمات کو اصلی شکل میں پیش کرنے کے لئے اپنی انجیل مرتب کی۔ تاکہ وہ ’’اس سچائی کو بیان کرے جو اس نے سنا اور دیکھا تھا‘‘ کتاب کے آغاز میں برنا باس لکھتا ہے :
" بہت سے لوگوں کو شیطان نے دھوکا دیا ہے۔ وہ مقدس بن کر بے دین عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ وہ مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ ختنہ کے طریقہ کو متروک قرار دیتے ہیں جس کو خدا نے ہمیشہ کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور حرام کھانوں کو حلال کر رہے ہیں۔ انھیں دھوکا کھانے والوں میں سے ایک پولوس بھی ہے۔ "
موجودہ سرکاری انجیلوں اور برناباس کے تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ برناباس ، حضرت مسیح کی تعلیمات کا زیادہ صحیح اور معتبر ریکارڈ ہے۔ اس کی تعلیمات قرآن کی تعلیمات سے بہت زیادہ مشابہ ہیں۔ مگر چونکہ وہ عیسائی حضرات کے موجودہ عقائد کے خلاف ہے۔ اس لئے وہ لوگ اس کو جعلی انجیل PSEUDO GOSPEL کہتے ہیں ۔ اس میں ان کے لئے ہدایت کا کوئی سامان نہیں ایک بزرگ اس صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: " اس انجیل کو اگر کوئی شخص تعصب کے بغیر کھلی آنکھوں سے پڑھے اور نئے عہد نامہ کی چاروں انجیلوں سے اس کا مقابلہ کرے تو وہ یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ سچائی کو بتانے کے لئے خدا خود زمین پر نہیں اترتا، نہ فرشتوں کے ذریعہ اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔ حتی کہ "کعبہ" اور "بیت المقدس" کے متولیوں کی زبان سے بھی اس کا پیغام بلند نہیں کرایا جاتا۔ سچائی کی دعوت ہمیشہ کسی غیر اہم گوشہ سے اٹھائی جاتی ہے تاکہ سنت اللہ کے مطابق اس میں التباس کا پہلو باقی رہے (انعام ۔ 9)
جو شخص التباس واشتباہ کے ظاہری پہلوؤں سے گزر کر سچائی کو پالے، اس کے لئے یہ دعوت ، زندگی بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جن کی نگاہیں التباس کے پردہ میں اٹک کر رہ جائیں ، ان کے لئے اس دعوت میں محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1977 All issues